لاہور (مرزا ندیم بیگ /تصاویر: شاہنواز میاں) صوبائی دارالحکومت میں پولیس اصلاحات، نئی عمارتوں کی تعمیر اور مناسب سرکاری جگہ کی عدم دستیابی کے باعث متعدد پولیس سٹیشن اپنی اصل جغرافیائی حدود سے ہٹ کر دیگر علاقوں میں قائم یا منتقل کئے جا چکے ہیں۔ شہریوں، وکلاءاور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث سائلین کو ایف آئی آر کے اندراج، تفتیشی افسران سے رابطے اور قانونی کارروائیوں کے سلسلے میں غیرضروری سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ماضی میں کئی تھانے کرائے کی عمارتوں یا ناکافی سہولیات والی جگہوں پر قائم تھے، تاہم بعد ازاں انہیں نئی تعمیر شدہ عمارتوں میں منتقل کر دیا گیا۔ بعض صورتوں میں نئی عمارت متعلقہ تھانے کی اصل حدود سے کافی فاصلے پر واقع ہونے کے باعث شہریوں کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ان مثالوں میں تھانہ قلعہ گجر سنگھ نمایاں ہے جو پہلے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن آفس کی عمارت میں قائم تھا، تاہم بعد ازاں اسے گڑھی شاہو کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا۔ اسی طرح تھانہ گلشن راوی کئی سال تک کرائے کی ایک رہائشی کوٹھی میں کام کرتا رہا، بعد ازاں اسے کریم بلاک، روہی نالہ مین روڈ پر تعمیر ہونے والی نئی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ تھانہ ملت پارک بھی اپنی روایتی حدود سے ہٹ کر گلشن راوی کے علاقے میں قائم نئی عمارت میں منتقل کیا گیا جس پر مقامی شہریوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی وقوعہ یا شکایت کے اندراج کیلئے انہیں کئی کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے جبکہ بعض اوقات متاثرہ افراد کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ متعلقہ تھانہ کس مقام پر منتقل ہو چکا ہے۔ بزرگ شہریوں، خواتین اور دیہی علاقوں سے آنے والے افراد کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق تھانوں کی عمارتوں کی منتقلی انتظامی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی تھانے کو اس کی اصل حدود سے باہر منتقل کیا جائے تو عوامی آگاہی مہم، رہنمائی سائن بورڈز اور آن لائن معلومات کی بروقت فراہمی ضروری ہے۔پولیس کے سابق افسران کا موقف ہے کہ کئی تھانے پرانی، خستہ حال اور ناکافی جگہ والی عمارتوں میں قائم تھے جہاں پارکنگ، حوالات، ریکارڈ روم اور تفتیشی دفاتر کی مناسب سہولت موجود نہیں تھی۔ اسی وجہ سے حکومت نے جدید تقاضوں کے مطابق نئی عمارتیں تعمیر کیں اور بعض تھانوں کو وہاں منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور پولیس کے انتظامی امور کو موثر بنانا تھا۔دوسری جانب شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ جہاں ممکن ہو تھانوں کو ان کی اصل حدود کے قریب منتقل کیا جائے یا کم از کم فرنٹ ڈیسک اور سہولت مراکز متعلقہ علاقوں میں قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو غیر ضروری سفر اور وقت کے ضیاع سے بچایا جا سکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تھانوں کی عمارتوں کی منتقلی کا مقصد سکیورٹی، بہتر انفراسٹرکچر اور جدید پولیسنگ کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کی سہولت کیلئے آن لائن شکایات، ہیلپ لائنز اور فرنٹ ڈیسک نظام کو مزید مو¿ثر بنایا جا رہا ہے جبکہ مستقبل میں نئی عمارتوں کی منصوبہ بندی کے دوران عوامی رسائی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔شہریوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید عمارتیں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم پولیس اسٹیشن کی اصل افادیت اس وقت ہی برقرار رہ سکتی ہے جب وہ اپنی حدود کے عوام کی آسان رسائی میں موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں حدود سے باہر منتقل کیے گئے تھانوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
پولیس سٹیشنوں کی اپنی حدود سے ہٹ کر دیگر علاقوں میں منتقلی سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا


















