لاہور:(کورٹ رپورٹر)بجلی و گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی بے بنیاد، غیر مستند ،مبہم ومسترد،لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی وقت ضائع کرنے اور متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر درخواست دائر کرنے پر جوڈیشل ایکٹوازم پینل کو ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم دےدیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہادرخواست گزار لوڈشیڈنگ، ٹیرف، لائن لاسز و پالیسی معاملات پر کوئی ٹھوس شواہد یا قانونی بنیاد پیش نہیں کر سکا، توانائی بحران جیسے پیچیدہ مسائل کا حل عدالتی احکامات نہیں بلکہ متعلقہ اداروں ،موثر پالیسی سازی سے نکلے گا۔
عدالت نے قرار دیاہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلیٹ فورم نہیں بن سکتی ،تکنیکی و پالیسی معاملات ایگزیکٹو ،ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں،عدالت نے کہامفاد عامہ کی درخواستیں اہم قانونی ہتھیار ،انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہئے، مفاد عامہ کے نام پر شہرت کی خواہش یا بدنیتی نہیں ہونی چاہئے
بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ پر درخواست مسترد، جرمانہ عائد


















