نیویارک (مشرق نیوز) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ویگووی اور مونجارو جیسی وزن کم کرنے والی ادویات نہ صرف موٹاپے اور ذیابیطس کے علاج میں موثر ثابت ہو رہی ہیں بلکہ ان کے استعمال سے شراب نوشی کرنے والے افراد کے ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
جی ایل پی-1 گروپ سے تعلق رکھنے والی ادویات جسم میں ایسے ہارمونز کی نقل کرتی ہیں جو خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے اور بھوک کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ابتدائی مطالعات سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ یہ ادویات شراب نوشی کی خواہش کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
امریکہ میں ہونے والی اس تحقیق میں جنوری 2018 سے دسمبر 2024 کے دوران 40 ہزار 703 افراد کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد نے سیماگلوٹائڈ یا ٹیرزیپیٹائڈ پر مبنی ادویات کا استعمال شروع کیا تھا۔ تحقیق میں چار مختلف مطالعات کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن میں ذیابیطس، موٹاپے اور شراب نوشی کے مسائل سے متعلق مریض شامل تھے۔
نتائج کے مطابق جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد میں شراب نوشی سے متعلق اسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ دیگر ذیابیطس کی ادویات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 26 فی صد کم تھا۔ اسی طرح وزن کم کرنے کیلئے یہ ادویات استعمال کرنے والے افراد میں دیگر موٹاپا کم کرنے والی ادویات کے مقابلے میں شراب سے متعلق اسپتال داخلوں کا خطرہ 32 فی صد کم دیکھا گیا۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن اس حوالے سے موجود شواہد اب بھی محدود اور ملے جلے ہیں، اس لیے حتمی نتائج تک پہنچنے کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
وزن کم کرنے والی ادویات سے متعلق نیا انکشاف



















