لاہور (میاں ذیشان) وزیراعلیٰ پنجاب کی خواتین کے احترام اور تحفظ کو ریڈ لائن قرار دینے کی پالیسی کے باوجود ان کے خلاف سامنے آنے والی ہراسگی کی شکایات پر خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنے والے کسی بھی افسر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی وزیراعلیٰ پنجاب کی پالیسی کا بنیادی تقاضا ہے، مگر ایل ڈی اے میں سنگین نوعیت کی شکایات کے باوجود تاحال کارروائی نہ ہونے سے ملازمین میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیڈکوارٹرز اسامہ مجید چیمہ کے خلاف خاتون افسر سمیت متعدد ملازمین کی جانب سے مبینہ ہراساں کرنے، غیر پیشہ ورانہ رویے، تحقیر آمیز برتاﺅ، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، گالم گلوچ، دھمکیوں اور خواتین افسران کو دفتری اوقات کے بعد کئی گھنٹوں تک دفتر میں بٹھائے رکھنے کے الزامات پر مبنی شکایات سامنے آنے کے باوجود تاحال کسی حتمی محکمانہ کارروائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے، جبکہ پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک التوا کار بھی عملی پیشرفت کی منتظر ہے۔ ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی طاہر فاروق اور ترجمان ایل ڈی اے اسامہ محمود نے خبر پر موقف دینے کی بجائے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کے مطابق ایل ڈی اے سپورٹس کمپلیکس سے وابستہ کم از کم 7 اسسٹنٹ منیجرز، جن میں تین خواتین افسران بھی شامل ہیں، نے اسامہ مجید چیمہ کے مبینہ رویے کے خلاف الگ الگ شکایات اعلیٰ حکام کو جمع کرائیں، جن میں الزام عائد کیا گیا کہ افسران کو اجلاسوں اور پریزنٹیشنز کے نام پر طویل انتظار کروایا جاتا رہا اور بعض مواقع پر خواتین اہلکاروں کو رات گئے تک دفتر میں موجود رہنا پڑا۔ شکایات کے مطابق 7 اکتوبر کو افسران کو دوپہر کے وقت پریزنٹیشن کیلئے طلب کیا گیا، تاہم انہیں رات تقریباً 10 بجکر 15 منٹ تک انتظار کرنا پڑا، بعض افسران کی جانب سے گھر جانے کی اجازت طلب کیے جانے پر مبینہ طور پر شوکاز نوٹس اور ملازمت ختم کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ ایک خاتون افسر کی والدہ اور رشتہ دار بھی رات گئے اس کی خیریت معلوم کرنے کیلئے دفتر پہنچ گئے۔ شکایات میں افسر کے مبینہ تحقیر آمیز اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ گفتگو، اختیارات کے ناجائز استعمال اور نامناسب رویے کے حوالے سے بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کرگیا جب مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے خواتین افسران کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور اختیارات کے غلط استعمال کے معاملے پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا کار جمع کراتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسر کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق شکایات، تحریری درخواستوں اور اسمبلی میں تحریک التوا کار جمع ہونے کے باوجود تاحال اسامہ مجید چیمہ کو باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کیے جانے، ان کے خلاف محکمانہ انکوائری مکمل ہونے یا انہیں موجودہ عہدے سے ہٹانے کیلئے کوئی عملی فیصلہ سامنے نہیں آیا، جبکہ پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک التوا کار پر بھی تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ یوں خواتین افسران کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات پر کارروائی نہ ہونے سے ایل ڈی اے کے داخلی احتسابی نظام اور ہراسگی سے متعلق شکایات کے ازالے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ امر بھی اہم ہے کہ مذکورہ شکایات میں عائد الزامات کو تاحال کسی حتمی محکمانہ یا عدالتی فورم نے ثابت شدہ قرار نہیں دیا، اسلئے غیرجانبدارانہ انکوائری کے ذریعے شکایت کنندگان کے بیانات، دفتری ریکارڈ، متعلقہ افسر کا موقف اور دیگر شواہد سامنے لا کر حقائق کا تعین ضروری ہے۔ تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود کارروائی میں تاخیر سے ادارے میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ بااثر افسران کے خلاف احتسابی عمل موثر انداز میں آگے نہیں بڑھتا، جس کے باعث خواتین ملازمین میں عدم تحفظ اور دیگر افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خواتین کے تحفظ سے متعلق واضح پالیسی کے تحت ایل ڈی اے انتظامیہ ان شکایات پر شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ داری کا تعین کرتی ہے یا معاملہ مزید تاخیر کا شکار ہوکر فائلوں تک محدود رہتا ہے۔اس حوالے سے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور ترجمان ایل ڈی اے اسامہ محمود سے مذکورہ شکایات، پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک التوا اور ادارے کی جانب سے اب تک کی گئی کارروائی کے بارے میں موقف اور وضاحت کیلئے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل ہونے تک نہ ڈائریکٹر جنرل اور نہ ہی ترجمان ایل ڈی اے کی جانب سے کوئی موقف، وضاحت یا جواب موصول ہوسکا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خواتین کے تحفظ سے متعلق واضح پالیسی کے تحت ایل ڈی اے انتظامیہ ان شکایات پر شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ داری کا تعین کرتی ہے یا معاملہ مزید تاخیر کا شکار ہوکر فائلوں تک محدود رہتا ہے۔متعلقہ ادارے کے سربراہ یا ترجمان خبر کے حوالے سے اپنا موقف دینا چاہیں تو ادارہ ہذا میں ان کے موقف کو من و عن شائع کیا جائیگا۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، خاتون افسر سمیت ملازمین کیساتھ تحقیر آمیز برتاﺅ



















