رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی میں غیرقانونی رہائشی و کمرشل تعمیرات کی بھرمار

لاہور (میاں ذیشان) راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم رولز کی خلاف ورزی، الرحیم گارڈن فیز V رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی میں بغیر منظوری سینکڑوں کنال رقبہ پر غیر قانونی درجنوں رہائشی و کمرشل تعمیرات کی بھرمارکر دی گئی۔ روڈا کے شعبہ ڈویلپمنٹ اینڈ بلڈنگ کنٹرول کا انفورسمنٹ ونگ بغیر منظوری رقبہ پر غیر قانونی رہائشی و کمرشل تعمیرات پر مسماری کی کارروائی کر کے سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی بجائے سوسائٹی مافیا کی سہولت کاری کرنے لگ گیا۔ روڈا افسران کی مجرمانہ غفلت کے باعث سوسائٹی انتظامیہ کا غیر قانونی فیز دھوکہ دہی، جعلسازی اور فراڈ کے ساتھ پلاٹوں کی فروخت سے ہزاروں متاثرین سوسائٹی مالکان کے ساتھ روڈا کے پالیسوں پر بھی سراپا احتجاج ہے۔ سوسائٹی مذکورہ میں رہائشی و تجارتی تعمیرات کے باعث بغیر ادائیگی کمرشلائزیشن اور نقشہ فیس کی مد میں حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے 8 سو کنال سے زائد رقبہ پر محیط رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم، تھہڑی روڈ، موضع ہانڈو اور تیج گڑھ، تحصیل شالیمار لاہور کو غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیم قرار دیے جانے کے باوجود وہاں مبینہ طور پر غیر منظور شدہ تعمیراتی سرگرمیوں کا جاری رہنا روڈا کے شعبہ ترقی و تعمیراتی کنٹرول کے انفورسمنٹ نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق روڈا کی جانب سے رائل انکلیو کو غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیم قرار دیا جا چکا ہ، جبکہ اتھارٹی کے قانونی فریم ورک میں پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم ریگولیشنز 2021 سمیت تعمیر و ترقی کے ضوابط موجود ہیں، ایسے میں اگر کسی غیر قانونی قرار دی گئی سکیم میں اتھارٹی کی اجازت، منظوری یا قانونی سند کے بغیر رہائشی و تجارتی تعمیرات جاری رہتی ہیں تو معاملہ محض سوسائٹی انتظامیہ کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہتا بلکہ متعلقہ نگران افسران کی کارکردگی اور مبینہ چشم پوشی بھی قابل تحقیقات بن جاتی ہے۔ روڈا تعمیر و ترقی ریگولیشنز 2021 کے مطابق کسی عمارت کی تعمیر کیلئے ڈویلپمنٹ اینڈ بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو درخواست اور مقررہ نقشہ جات، سائٹ پلان، تعمیراتی منصوبہ، متعلقہ انجینئرنگ دستاویزات اور دیگر تقاضے پورے کرنا لازم ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بغیر منظوری تعمیر شروع کرنا قانونی نظام سے متصادم ہے۔ مزید اہم امر یہ ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2020 کی دفعہ 40 ، 41 اور شیڈول کے حصہ ب کی شق 3 کے مطابق تحت ایکٹ، قواعد یا ضوابط کی خلاف ورزی پر، جہاں کوئی الگ سزا مقرر نہ ہو، ایک سال تک قید یا دو لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، اور ایسا کام کرنا جس کیلئے قانون، قواعد یا ضوابط کے تحت اجازت درکار ہو لیکن اجازت کے بغیر کیا جائے، قابلِ سزا جرم ہے۔ جبکہ اسی شیڈول کی شق 4 منظور شدہ ماسٹر پلان، عمارت کے نقشے یا منظور شدہ سائٹ ڈویلپمنٹ سکیم کی خلاف ورزی، زمین کی غیر منظور شدہ مقصد کیلئے فروخت یا استعمال کو بھی جرم قرار دیتی ہے، اور کسی جائیداد کو اتھارٹی کی پیشگی تحریری منظوری کے بغیر مقررہ استعمال سے مختلف مقصد کیلئے استعمال کرنے پر خلاف ورزی جاری رہنے تک دس ہزار روپے یومیہ تک جرمانہ یا ایک سال تک قید یا دونوں کی سزا مقرر ہے، جبکہ ایکٹ، قواعد، ضوابط یا اتھارٹی کے حکم کی خلاف ورزی میں تعمیر شدہ عمارت، ڈھانچے یا تعمیراتی کام کو تحریری حکم کے ذریعے ہٹانے، مسمار کرنے یا تبدیل کرنے کا تقاضا کرے۔ اس قانونی صورت حال میں رائل انکلیو میں مبینہ طور پر سینکڑوں کنال رقبے پر درجنوں رہائشی و تجارتی تعمیرات کا جاری رہنا اس امر کی تحقیقات کا متقاضی ہے کہ آیا ہر تعمیر کیلئے باقاعدہ نقشہ منظوری، تعمیراتی اجازت، زمین کے استعمال کی اجازت اور دیگر متعلقہ قانونی منظوری موجود ہے یا نہیں، اور اگر منظوری موجود نہیں تو روڈا کے انفورسمنٹ ونگ نے اب تک کتنی تعمیرات کی نشاندہی، کتنے نوٹس جاری، کتنے مقدمات درج، کتنی تعمیرات مسمار اور کتنے مالی واجبات وصول کئے ہیں۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ کی دفعہ 13 کے تحت اتھارٹی کا ایسا ملازم جو اپنی غفلت یا بدعنوان طرزِ عمل کے نتیجے میں اتھارٹی کے مال یا رقم کے نقصان، ضیاع یا غلط استعمال کا ذمہ دار ثابت ہو، سماعت کا موقع دینے کے بعد ہونے والے نقصان کی ادائیگی کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے، متاثرین کی ایک کثیر تعداد نے سی ای او عمران امین سے مطالبہ کیا ہے کہ جب روڈا خود رائل انکلیو کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے تو پھر وہاں مبینہ طور پر نئی تعمیرات کس کی اجازت، کس کی نگرانی اور کس افسر کی ذمہ داری کے تحت جاری ہیں، اور اگر نقشہ فیس، کمرشلائزیشن فیس، منظوری فیس یا دیگر قانونی واجبات ادا نہیں کئے گئے تو قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کرکے ذمہ داروں سے وصولی کب کی جائیگی۔ اس معاملے میں مشترکہ محکمانہ تحقیقات کرکے ذمہ دار افسران، سوسائٹی انتظامیہ اور تعمیرات میں سہولت فراہم کرنے والے دیگر کرداروں کا تعین کرنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان شیر افضل بٹ نے کہا ہے کہ رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی طور پر اسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور بغیر منظوری تعمیرات کے حوالے سے روڈا کی جانب سے باقاعدہ نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ موقع پر تعمیرات کرنے والے شہریوں کو بھی تحریری طور پر واضح اور متنبہ کیا گیا ہے کہ جب تک راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی کو قانونی منظوری جاری نہیں کی جاتی، اس وقت تک کسی بھی قسم کی تعمیرات یا ترقیاتی سرگرمی کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ روڈا کے متعلقہ شعبے کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات اور ترقیاتی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی غیر منظور شدہ تعمیر کا حصہ نہ بنیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ واضح ہدایات اور تحریری نوٹسز کے باوجود اگر رائل انکلیو میں غیر قانونی طور پر ترقیاتی کام، اسٹرکچر ڈویلپمنٹ یا نجی طور پر رہائشی و تجارتی تعمیرات جاری رہتی ہیں تو راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لاتے ہوئے رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی میں باقاعدہ مسماری آپریشن کا آغاز کریگی۔ شیر افضل بٹ نے واضح کیا کہ روڈا کی منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی تعمیر یا ترقیاتی سرگرمی قابل قبول نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے فوکل پرسنز سید علی ارتضیٰ اور ذکاءالرحمن نے موقف اختیار کیا ہے کہ سوسائٹی سے متعلقہ فائل راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں جمع ہے اور انتظامیہ کی جانب سے اپنی قانونی و انتظامی کارروائی مکمل کرنے کیلئے باقاعدہ ورکنگ جاری ہے، جبکہ روڈا کی جانب سے حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ذکاءالرحمن نے سید علی ارتضیٰ کے موبائل نمبر سے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی انتظامیہ روڈا کے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور مطلوبہ امور کی تکمیل کیلئے اپنی ورکنگ مکمل کر رہی ہے، جیسے ہی روڈا کی جانب سے حتمی منظوری حاصل ہو جائے گی، سوسائٹی سے متعلق موجودہ چھوٹے چھوٹے مسائل فوری طور پر حل کر دئیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ معاملے کو قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے اور روڈا کی حتمی منظوری کے بعد صورتحال میں مزید بہتری آئیگی۔