واشنگٹن،منامہ:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)صدر ٹرمپ نے کہاہے ایران کو بڑی رعایتیں دے رہے،دونوں ممالک کے درمیان پیشرفت مثبت سمت جاری ہے،ایران نے طے شدہ معاملات پر عمل نہ کیا تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کو منجمد اثاثوں سے رقوم دینے کی سختی سے تر دید کرتے ہوئے کہاایران ہر بات مان رہا اور ایسا کرنا بھی پڑے گا،معاملات بہت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں،معاملات پر عملدرآمد نہ کیاگیا تو امریکہ وہی کرے گا جو ضروری ہوگا،آئندہ چند دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول یا اضافی مالی بوجھ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کرائی،ایران کو امریکی کسانوں سے خوراک خریدنی چاہیے ،ادائیگی منجمد ایرانی اثاثوں میں سے کی جا سکتی ہے،ایران کے معاملے پر یورپ نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا، برطانیہ، جرمنی، فرانس،سپین ،اٹلی کے موقف سے مایوس ہیں،نیٹو نے بھی امریکی توقعات پوری نہیں کیں،ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا،فوجی طاقت کی بدولت ایران کے پاس بحریہ رہی نہ ہی فضائیہ اور پہلی بار مشرق وسطیٰ میں امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا قبول نہیں کریں گے آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو،سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، کوئی بھی ملک آبی گزرگاہ سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتا،تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزر لینڈ جائیں گی،ایرانی جوہری پروگرام ، پابندیوں پرمذاکرات ہوں گے ایسا پائیدار امن چاہتے ہیں جو حقیقی ہو اور امریکی و اتحادیوں کی سکیورٹی و خوشحالی کو نقصان نہ پہنچائے۔
مارکو روبیو نے کہا امریکہ ایران کےساتھ معاہدے کو کامیاب کرنا چاہتا ہے اور ہر ممکن اقدام کیا جائے گا،صدر ٹرمپ چاہتے ہیں ایران مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کرے، معاہدے کی پاسداری نہ کی تو مختلف آپشنز موجود ہیں، ایران اچھی ڈیل چاہتا ہے تو تیار ہیں، معاہدے کے مطابق تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے گر رہی ہیں۔
معاملات بہتر سمت گامزن،ایران نے معاملات پر عمل نہ کیا تو آپشنز موجود ہیں،ٹرمپ


















