اسرائیل فوری طور پر لبنان کی حدود سے نکل جائے: پاکستان

نیویارک (مشرق نیوز) پاکستان نے لبنان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، فوری جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، جس میں اسرائیل کی بلیو لائن تک مکمل واپسی بھی شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران کیا۔

پاکستانی مندوب نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے اور اسرائیل کوئی فوج بیروت نہیں بھیجے گا۔

بعدازاں لبنان نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک جزوی جنگ بندی کا اعلان کیا، واشنگٹن میں لبنان کے سفارت خانے کے مطابق اس معاہدے سے ملک میں تنازع کا خاتمہ نہیں ہوگا، لیکن اس کے تحت اسرائیل کو بیروت اور حزب اللہ کے زیر کنٹرول اس کے مضافات پر حملوں سے باز رہنا ہوگا، جبکہ ایران کا حامی گروپ اسرائیل پر اپنے حملے روک دیگا۔

سلامتی کونسل اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات اور براہ راست بات چیت کے باوجود، لبنان میں سکیورٹی اور انسانی صورت حال انتہائی تیزی سے بگڑ رہی ہے، جس کے ساتھ اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور لبنانی حدود میں زمینی دراندازی میں بھی وسعت آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2000 مربع کلومیٹر جو لبنان کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے، اب اسرائیل کے غیر قانونی قبضے میں ہے، انخلا کے غیر قانونی احکامات شہریوں کیلئے مزید بے پناہ مصائب کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی حکمت عملی، وہی طریقہ کار ہے جو ہم نے دیگر مقامات پر دیکھا ہے یعنی اندھا دھند قتل عام، جبری بے دخلی اور قبضہ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سال مارچ سے اب تک لبنان میں خواتین اور بچوں سمیت 3400 سے زائد اموات اور 10,000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے۔ اسرائیل کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کیلئے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کروانے میں امریکی کوششوں کے خیرمقدم اور اس عمل میں مسلسل شمولیت کی حمایت کرتے ہوئے پاکستانی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔