ایران سے معاہدے کے قریب، اچھی ڈیل ورنہ دوبارہ فوجی آپریشن ہوگا،ٹرمپ

واشنگٹن :(بیورورپورٹ)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے معاہدے کے بہت قریب، ایران نے یقین دہانی کرادی ایٹمی ہتھیار خریدے گا نہ ہی بنائے گا، اچھی ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ فوجی آپریشن کرنا پڑےگا۔

ٹرمپ نے کہاجو چاہتے وہ آہستہ آہستہ حاصل کر رہے ہیں، مذاکراتی فریق بہت سخت ،بات چیت میںکافی وقت لگتا ہے،معاہدہ کرنے کیلئے کوئی جلدی نہیں ورنہ اچھی ڈیل نہیں ہوگی، سارے پتے امریکہ ہی کے پاس ہیں،ڈیل پردستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائےگی، تہرن بہت بری پوزیشن میں ہے،ایران کی عسکری قیادت و دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا لیکن فوج کو مکمل تباہ کرنے سے گریز کیا۔

امریکی صدر نے کہااپنی طے شدہ ریڈ لائنز پر قائم ہیںایسامعاہدہ چاہتے ا یران دوبارہ ایٹمی ہتھیارحاصل نہ کرسکے،تنازع کی بجائے معاہدہ ترجیح ہے،بعض سابق جنگوں سے سبق ملا کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے، ماضی میں عراق میں ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ مستقبل میں استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

دریں اثنا امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے ایران کےساتھ معاہدے پر جلد فیصلے کے بعد ذہن تبدیل کر لیااورتبدیل شدہ سخت تجاویز بھیج دیں،مقصد ایران پر دباو ڈالنا ہے پہلے سے تیارفریم ورک پرجلدراضی ہو جائے،ٹرمپ نے وائٹ ہاوس کے سچویشن روم میں ہونےوالے اہم اجلاس کے دوران مسودے کا جائزہ لیا اور نظرثانی کی ہدایت دی۔

ادھرایران کے سرکاری میڈیا نے امریکہ کےساتھ غیررسمی معاہدے کا مسودہ جاری کردیا،سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکہ کےساتھ ”اسلام آباد مفاہمت“ کا غیر رسمی مسودہ تیار ہے تاہم ابھی حتمی نہیں، آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثوں کی تفصیلات شامل ہیں،مجوزہ معاہدے سے آبنائے ہرمزمیں ایران کووسیع اختیارات ملیں گے، بحری جہازوں کی درجہ بندی کااختیار،60 روزمیں ایران کو 12 ارب ڈالرمنجمد اثاثوں تک رسائی ،تہران مخالف مال بردار جہازوں پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہوگا۔