اسلام آباد:(بیورورپورٹ)سپریم کورٹ کا ترکیہ ،چین کےساتھ عدالتی تعاون مزید مضبوط،سٹریٹجک شراکت داری کو نئی وسعت دےدی گئی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اگست 2025 میں سپریم پیپلز کورٹ آف چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کے بعد ضلعی عدلیہ کے نمایاں ججز کو عالمی تربیت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں،بلوچستان سے خاتون ایڈیشنل سیشن جج ،مٹھی کے سینئر سول جج جلد چین روانہ ہوں گے ، بنوں اور ڈی جی خان کے ججز مئی 2026 میں شنگھائی میں قانونی تربیتی کورس کریں گے،پاکستانی آئی ٹی ماہرین کا وفد جولائی 2026 میں بیجنگ کا دورہ کرکے عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت ،ڈیجیٹل تبدیلی کا جائزہ لیا جائےگا۔
اعلامیے کے مطابق نچلی سطح پر عدالتی صلاحیت میں اضافہ اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے،ترکیہ کےساتھ بھی عدالتی تعاون کو مزید مستحکم کیا گیا،سٹریٹجک شراکت داری کو نئی وسعت دی جا رہی ہے،ترکیہ کی آئینی عدالت کےساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت ،ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دیا جا رہا ہے،ضلعی عدلیہ کے ججز کو میرٹ پر عالمی سطح پر نمائندگی ،دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ججز کو خصوصی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں ،خواتین ججز کی بین الاقوامی پروگرامز میں موثر شرکت بھی یقینی بنائی گئی۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیاترکیہ کے ماہرین نے عدلیہ میں مصنوعی ذہانت کے سمپوزیم میں شرکت کی جبکہ پاکستانی وفود نے ترکیہ کے جدید عدالتی نظام اور انتظامی ماڈل کا جائزہ لیا،8نمایاں ضلعی ججز پر مشتمل نیا وفد جلد ترکیہ روانہ ہو گا،ہر ہائی کورٹ سے میرٹ پر نامزدگیاں مکمل کر لی گئیں،تعاون عدالتی اصلاحات، استعداد کار میں بہتری ،جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی عالمی معیار کی عدلیہ کے قیام کی جانب اہم پیشرفت ہے۔
سپریم کورٹ کا ترکیہ ،چین کےساتھ عدالتی تعاون مزید مضبوط


















