بورڈ آف ریونیو پنجاب، ملتان میں انکم ٹیکس کی مد میں حکومتی خزانے کو 65 کروڑ سے زائد کا ٹیکہ

لاہور (میاںذیشان) بورڈ آف ریونیو پنجاب کے شعبہ آڈٹ، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ کا ضلع ملتان کے سب رجسٹرار سٹی اور کینٹ کے دفاتر کا خصوصی آڈٹ، انکم ٹیکس کی مد میں جمع ہونیوالے ٹیکسز کی کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسیدات میں جعلسازی اور کم شرح پر وصولی سے حکومتی خزانے کو مجموعی طور پر 65 کروڑ سے زائد کا ٹیکہ لگایا گیا۔ عرصہ تین ماہ کے قلیل مدتی دورانیہ میں تعینات رہنے والے درجن کے قریب سب رجسٹرار، تحصیلداران اور نائب تحصیلداران اس میگا سکینڈل کے سہولت کار نکلے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا پورٹل ای رجسٹریشن بوگس رسیدوں کی تصدیق کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ ڈپٹی کمشنر ملتان کو بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری ہدایات کے باوجود اسٹامپ ڈیوٹی اور تحصیل کونسل واجبات کے آڈٹ کے حوالے آڈٹ ٹیم کو ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ چیف سٹیمپ انسپکٹر بورڈ آف ریونیو پنجاب نے خرد برد کی جانیوالی سرکاری فیسوں کی ریکوری یقینی بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر ملتان کو سفارشات ارسال کر دیں۔ تفصیلات کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ممبر آڈٹ، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ انجینئر امجد شعیب خان ترین کی ہدایات پر ضلع ملتان کے مختلف سب رجسٹرار، تحصیلداران اور نائب تحصیلداران کے لاگ ان کا آڈٹ کیا گیا تھا جس میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی جانب سے متعارف کروائے جانیوالے والے پورٹل پر تصدیق ہونیوالی دستاویزات کا انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236-C اور 236-K کے حوالے سے تفصیلی مشاہدہ کے دوران جعلی سی پی آرز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ویلیو ایشن ٹیبل سے کم شرح پر وصولی سے حکومتی خزانے کو مجموعی طور پر 65 کروڑ 29 لاکھ 18 ہزار 838 روپے کے ریونیو سے محروم کیا گیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خصر حیات کی بطور سب رجسٹرار سٹی اور کینٹ ملتان تعیناتی کے دوران 14 ہزار 250 دستاویزات کا آڈٹ کیا گیا۔ مذکورہ تمام دستاویزات کے ساتھ نہ تو 32-A چالان اور نہ ہی انکم ٹیکس سی پی آرز کی اصل رسیدات منسلک کی گئیں۔ 5379 کیسز میںسیکشن 236-C کی بابت 21 کروڑ 34 لاکھ 26 ہزار 643 روپے، 4898 کیسوں میں سیکشن 236-K کی بابت 10 کروڑ 18 لاکھ 81 ہزار 349 روپے کی جعلی رسیدات، جبکہ 23 کروڑ 72 لاکھ 36 ہزار 950 روپے کم شرح پر وصول کر کے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسی طرح محمد شمعون کی بطور تحصیلدار / سابقہ سب رجسٹرار صدر ملتان تعیناتی کے دوران 2103 دستاویزات کا مشاہدہ عمل میں لایا گیا۔ زیر مشاہدہ تمام دستاویزات کے ساتھ نہ تو 32-A چالان اور نہ ہی انکم ٹیکس سے متعلقہ چالان کی اصل رسیدات لف کی گئی ہیں۔ 948 کیسوں میں سیکشن 236-C کی بابت 3 کروڑ 89 لاکھ 19 ہزار 408 روپے ، 863 کیسوں میں سیکشن 236-K کی بابت 1 کروڑ 16 لاکھ 33 ہزار 351 روپے کی جعلی رسیدات، جبکہ 1 کروڑ 16 لاکھ 56 ہزار 691 روپے کم شرح پر وصول کر کے اپنی جیبوں میںبھرے گئے۔ اسی طرح ندیم قصر نائب تحصیلدار سرکل شیر شاہ جلیل تحصیل صدر میں دوران تعیناتی 247 دستاویزات کی تصدیق مکمل کی گئی۔ جن کے ساتھ حکومتی ٹیکسز کی ادائیگیوں کی اصل رسیدات منسلک نہ پائی گئی ہیں۔ 148 کیسوں میں سیکشن 236-C کی بابت 38 لاکھ 44 ہزار 977 روپے، 150 کیسوں میں 38 لاکھ 52 ہزار 372 روپے کی جعلی رسیدات، جبکہ 18 لاکھ 65 ہزار 170 روپے کم شرح پر وصول کر کے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسی طرح عابد شبیر سابقہ تحصیلدار نے بطور سب رجسٹرار کینٹ ملتان 469 دستاویزات کی عدم وصول اصل رسیدات حکومتی واجبات تصدیق کی گئیں۔ 127 کیسز میں سیکشن 236-C کی بابت 36 لاکھ 97 ہزار 656 روپے، 116 کیسوں میںسیکشن 236-K کی بابت 33 لاکھ 11 ہزار 888 روپے کی جعلی سی پی آرز جبکہ 15 لاکھ 43 ہزار 574 روپے کی کم شرح پر وصولی کر کے ریونیو سے محروم کیا گیا۔ اسی طرح محمد شفیق سابقہ سب رجسٹرار سٹی ملتان نے اپنی تعیناتی کے دوران 709 دستاویزات کی تصدیق کی۔ سیکشن 236-C کے تحت 80 کیسز میں 41 لاکھ 16 ہزار 960 روپے، سیکشن 236-K کے تحت 59 کیسوں میں 32 لاکھ 77 ہزار 432 روپے، جبکہ 71 لاکھ 97 ہزار 168 روپے کم شرح پر وصول کر کے حکومتی خزانے کو ٹیکہ لگایا گیا۔ جبکہ اعظم ممتاز نے 4 لاکھ سے زائد، رائے حسن مصطفیٰ نے 24 ہزار، ریاض احمد نے 43 لاکھ سے زائد، فرخ جاوید نے 6 لاکھ سے زائد کم شرح پر وصول کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سٹامپ ڈیوٹی اور تحصیل کونسل کے واجبات کے آڈٹ کیلئے ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ مذکورہ درجن کے قریب سب رجسٹرار، تحصیلداران اور نائب تحصیلداران نے بوگس رسیدات اور کم شرح پر واجبات کی مد میں مجموعی طور پر 65 کروڑ 29 لاکھ 18 ہزار 838 روپے کے ریونیو سے محروم کیا گیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی جانب سے آن لائن کمپیوٹرائزڈ رسیدات کی تصدیق نہ ہونا آنیوالے دنوں میںپنجاب کے دیگر اضلاع میںفراڈ، جعلسازی کے بیشتر واقعات کو دستک دے رہا ہے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) چیف سٹیمپ انسپکٹر بورڈ آف ریونیو پنجاب محمد جنید کا ضلع ملتان کے سب رجسٹرار، تحصیلداران اور نائب تحصیلداران کی جانب سے اس میگا مالیاتی سکینڈل کی ریکوری اور اسٹامپ ڈیوٹی اور تحصیل کونسل واجبات کے آڈٹ کے حوالے سے جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا لیکن میسجز پڑھ لینے کے باوجود چیف سٹیمپ انسپکٹر کی جانب سے کوئی موقف پیش نہیں کیا گیا۔ قبل ازیں بھی روزنامہ مشرق میں گزشتہ روز شائع ہونیوالی خبر کے حوالے سے بھی موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا تھا لیکن ان کی طرف سے نہ تو کوئی وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی موقف پیش کیا گیا ہے۔ چیف سٹیمپ انسپکٹر کی سربراہی میں درجنوں ہاﺅسنگ سوسائٹیز، ادارہ جات، سب رجسٹرار آفس کے آڈٹ کئے جانے اور اربوں روپے کے ریونیو کی خوردبرد صرف کاغذی کارروائیوں تک سامنے آنااور کوئی قابل ذکر ریکوری نہ ہو پانا مذکورہ افسر کی نااہلی، مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چیف سٹیمپ انسپکٹر اگر اپنا موقف پیش کرنا چاہیںتو ادارہ ہذا میںانکا موقف من و عن شائع کیا جائیگا۔

ترجمان کی طرف سے وضاحتی بیان نہ دیا جاسکا، ڈی جی بھی لب کشائی سے قاصر
لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے پورٹل ای رجسٹریشن پر صوبائی و وفاقی ٹیکسز کی مد میںسی پی آرز نمبرز کی تصدیق کے بنا دستاویز کو سب رجسٹرار لاگ ان میں بھیجے کا عمل قطعاً ممکن نہ ہے۔ اگر کروڑوں روپے کی انکم ٹیکس سے متعلقہ سی پی آرز بوگس اور جعلی اور فراڈ پر مبنی قرار دی جا رہی ہیں تو پھر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے شفافیت کے نظام، الیکٹرانک رجسٹری کے قیام اور خود پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا وجود بھی سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ اس حوالے سے ترجمان پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی علی رضا بھٹہ سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن ان کی طرف سے موقف کی یقین دہانی کے باوجود کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل اکرام الحق بھی اس تکنیکی سقم پر لب کشائی سے قاصر ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل یا ترجمان پلرا اپنا موقف پیش کرنا چاہیں تو روزنامہ مشرق کے صفحات حاضر ہیں۔