لاہور(قاضی ندیم اقبال)محکمہ اوقاف پنجاب نے پنجاب پبلک سروس کمیشن حکام کو پیڈا ایکٹ کے تحت جاری انکوائریوں میں ملوث دو منیجرز شفقت عباس اور زاہد اقبال کو پی ایم ایس منسٹریل کوٹہ امتحانات میں کوالیفائی کرنے کے باوجود محکمہ کو اعتماد میں لئے بغیر انہیں زیر غور نہ لانے کی درخواست کر دی۔ اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن عظیم حیات نے سیکرٹری پی پی ایس سی کوباقاعدہ تحریری مراسلہ ارسال کر دیا جس میں متعلقہ امیدواروں کے خلاف جاری محکمانہ کارروائیوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اوقاف شاکر محمود کی پیشگی منظوری کے بعد پی پی ایس سی حکام کو بھجوائے گئے مراسلے میں موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ دونوں افسران (شفقت عباس اور زاہد اقبال )کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ کے تحت انکوائریاں زیر التوا ہیں، لہٰذا انہیں کسی بھی قسم کے تقرری کے عمل میں شامل کرنا نہ صرف قواعد و ضوابط کے منافی ہوگا بلکہ شفافیت پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ جب تک ان افسران کے خلاف جاری انکوائریاں مکمل نہیں ہو جاتیں اور انہیں کلیئر نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ان کی امیدوار حیثیت کو موخر کیا جائے۔ذرائع کے مطابق محکمہ اوقاف کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شفقت عباس تین انکوائریوں میں ملوث ہیں۔ ایک انکوائری میں انہیں مائنر سزا(تین سال کی سالانہ انکریمنٹ روکنے ) دی نے کے علاوہ ان سے 5لاکھ66ہزار روپے ریکور کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔اسی طرح دوسری دو انکوائریاں بھی پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت جاری ہیں۔ان میں سے ایک انکوائری میں 1کروڑ44لاکھ23ہزار235 روپے کی رقم سرکاری اکا?نٹ میں جمع نہیں کروائی گئی۔جبکہ دو رسیدوں کے ذریعے بالترتیب 38لاکھ8ہزار858 روپے اور 52لاکھ276 روپے جمع کروانے کا دعوی کیا گیا تھا۔وہ دونوں رسیدیں بھی جعلی ثابت ہوئیں۔جبکہ اسی طرح کی ایک اور انکوائری بھی زیر سماعت ہے جس میں محکمہ کے مختلف کرایہ داروں/پٹہ داروں سے 64لاکھ16ہزار685 روپے وصول کئے گئے ، مگر انہیں محکمہ کے اکاﺅنٹ میں جمع نہیں کرویایا گیا ہے۔اسی طرح زاہد اقبال منیجر کے خلاف دربار حضرت بی بی پاکدامن کے کیش بکسز کی کشادگی کے دوران نقد رقم کی چوری جیسے سنگین الزامات کے تحت انکوائری زیر سماعت ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں پی پی ایس سی حکام کوکہا گیا ہے کہ چونکہ مذکورہ دونوں منیجرز کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت کارروائی جاری ہے، جس کے باعث ان کی سروس ریکارڈ بھی زیر جانچ ہے۔ سرکاری اداروں میں تقرری کے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مبنی رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے امیدواروں کو وقتی طور پر اس عمل سے الگ رکھا جائے جن کے خلاف محکمانہ انکوائریاں جاری ہوں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی ایس سی کی جانب سے مختلف اسامیوں پر بھرتیوں کیلئے انٹرویوز کا مرحلہ جاری ہے، جس میں متعدد امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ انہی امیدواروں میں مذکورہ دو منیجرز شفقت عباس اور زاہد اقبال بھی شامل تھے، تاہم محکمہ اوقاف کی جانب سے اعتراض اٹھائے جانے کے بعد ان کی حیثیت غیر یقینی ہو گئی ہے۔ اب یہ فیصلہ پی پی ایس سی کو کرنا ہے کہ وہ محکمہ اوقاف کی سفارش کو کس حد تک مدنظر رکھتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق پیڈا ایکٹ کے تحت جاری انکوائریوں کا سامنا کرنے والے سرکاری ملازمین کے حوالے سے یہ ایک معمول کی کارروائی ہے کہ انہیں ترقی یا نئی تقرری کے عمل سے وقتی طور پر روک دیا جاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ادارہ جاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچنا ہوتا ہے۔دوسری جانب، اس پیش رفت کے بعد متعلقہ دونوں منیجرز میں تشویش کی لہر بھی پائی جا رہی ہے، کیونکہ انٹرویوز میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں ان کے کیریئر پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم پنجاب پبلک سروس کمشن حکام کا کہناہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق اور شفاف طریقے سے مکمل کی جائیں گی، اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری اداروں میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مراسلے کے اجرا کے بعد پی پی ایس سی کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ہی آئندہ کی صورتحال واضح ہو سکے گی۔ذرائع کے مطابق مراسلے کی کاپی پرائیویٹ سیکرٹری برائے اوقاف و مذہبی امور کو ارسال کی گئی ہے۔
محکمہ اوقاف،انکوائریز میں شامل 2 منیجرز کو کسی عہدے کیلئے زیرغور نہ لانے کی درخواست


















