پاکستان ریلویز، سرکاری رہائشگاہوں کی الاٹمنٹ میں افسران، اہلکار ملوث، رشوت وصولی

لاہور (قمر عباس نقوی) پاکستان ریلویز کی رہائشی الاٹمنٹس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ افسران اور اہلکاروں کے ملوث ہونے کی نشاندہی ،الاٹمنٹ کے حصول میں 2لاکھ سے زائد رشوت کی ادائیگی کا انکشاف ، انکوائری کمیٹی کی سفارشات مشکوک الاٹمنٹس فوری طور پر منسوخ ور رہائشیں میرٹ اور قواعد کے مطابق مستحق ملازمین کو دی جائیں۔ لاہور ڈویژن کا سروے کا آغاز ورکشاپس ڈی ایس کی تاحال مجرمانہ خاموشی کارروائی کرنے سے گریزاں۔ پاکستان ریلوے میں رہائشی کوارٹرز کی جعلی الاٹمنٹ کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں 29 ریلوے ملازمین کی رہائشیں غیر قانونی قرار دے دی گئی تھی یہ پیش رفت ان درخواستوں پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے، جو ملازمین نے ممکنہ بے دخلی کے خلاف دائر کی تھیں ریلوے حکام کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں ڈائریکٹر جنرل P&L اور ڈائریکٹر جنرل QC & FM شامل تھے۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ تمام درخواست گزاروں کو ذاتی سماعت کا موقع دے اور قانون و پالیسی کے مطابق اپنی سفارشات مرتب کرے ویجیلنس ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقات میں لاہور اور ورکشاپس ڈویژنز میں بڑی تعداد میں ریلوے کوارٹرز کی جعلی الاٹمنٹس کا انکشاف ہوا 29 متاثرہ ملازمین نے عدالتوں سے رجوع کیا انہیں رہائش سے بے دخل نہ کیا جائے کمیٹی نے 13 دسمبر 2025 کو اجلاس منعقد کیا اور 16 دسمبر 2025 کو تمام درخواست گزاروں کو باری باری سنا اس دوران تمام ملازمین نے موقف اختیار کیا کہ انہیں الاٹمنٹ کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا جعلسازی کا علم نہیں تھا اور وہ خود کو بے قصور سمجھتے ہیں تحقیقات کے دوران کمیٹی نے تمام متعلقہ ریکارڈ، بشمول الاٹمنٹ لیٹرز اور دیگر دستاویزات، کا تفصیلی جائزہ لیا ڈپٹی ڈائریکٹر P&L لاہور اور ورکشاپس سے بھی مکمل تفصیلات حاصل کی گئیں جانچ پڑتال کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ درخواست گزاروں کو دی گئی تمام الاٹمنٹس جعلی تھیں رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ملازمین کے حق میں جاری کیے گئے G-10 سرٹیفکیٹس بھی غیر مستند اور بوگس ہیں، جس سے کیس کی نوعیت مزید سنگین ہو گئی تھی درخواست گزاروں کو دیے گئے الاٹمنٹس جعلی اور بوگس قرار دئیے گئے جبکہ اس اسکینڈل میں ریلوے کے کئی افسران اور اہلکاروں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد درخواست گزاروں نے ذاتی سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے الاٹمنٹ کیلئے ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رشوت ادا کی ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی گی انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ تمام مشکوک الاٹمنٹس فوری طور پر منسوخ کیے جائیں اور رہائشیں میرٹ اور قواعد کے مطابق مستحق ملازمین کو دی جائیںمزید برآں، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسی بدعنوانی کا سدباب کیا جا سکے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے اعلیٰ حکام کو پیش کر دی، جسے سی ای او اور سینئر جنرل منیجر نے منظور کر لیا ہے۔ رپورٹ میں متعلقہ افسران، بشمول ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ لاہور اور مغل پورہ ورکشاپس، کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ وہ اس کی روشنی میں مزید ضروری کارروائی عمل میں لائیں۔ لاہور ڈویژن کی جانب سے ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے سروے شروع کر رکھا ہے جبکہ ورکشاپس ڈویژن کی جانب سے تاحال مکمل خاموشی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ڈی ایس ورکشاپس افتخار حسین سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے موقف نہیں دیا جبکہ اے ای این تنویر گجر بھی موقف نہ دیا لاہور ڈویژن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں سروے جاری ہے جلد حکام کو رپورٹ پیش کر دی جائیگی۔