لاہور (نعیم جاوید) پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت بجلی و گیس کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں کے بڑھتے بوجھ، مہنگے خام مال، ورکنگ کیپٹل کی کمی، ریفنڈز میں تاخیر اور عالمی منڈی میں بڑھتی مسابقت کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہے، صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث متعدد یونٹس کی پیداوار متاثر جبکہ بعض صنعتی یونٹس بند یا جزوی طور پر بند ہونے کی اطلاعات ہیں، صورتحال برقرار رہی تو برآمدات، روزگار اور ملکی صنعتی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے صنعتی حلقوں کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر کے بحران کی بنیادی وجہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے، بجلی کے نرخوں میں اضافے، فکسڈ چارجز، مختلف ایڈجسٹمنٹس اور دیگر محصولات نے صنعتی بجلی کو مہنگا کر دیا ہے جبکہ گیس اور آر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔ ٹیکسٹائل ملز کا کہنا ہے کہ بجلی اور گیس کی مسلسل اور مسابقتی نرخوں پر دستیابی برآمدی صنعت کیلئے بنیادی ضرورت ہے کیونکہ توانائی کی لاگت میں معمولی اضافہ بھی بڑے پیداواری یونٹس کے مجموعی اخراجات پر نمایاں اثر ڈالتا ہے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو خطے کے مسابقتی ممالک کے مقابلے میں توانائی کی بلند لاگت کا سامنا ہے، جس کے باعث پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمت برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر بجلی اور گیس کے نرخ علاقائی سطح پر مسابقتی نہ بنائے گئے تو مقامی صنعت کیلئے برآمدی آرڈرز حاصل کرنا اور برقرار رکھنا مشکل ہوگادوسری جانب ٹیکسٹائل صنعت کو ٹیکسوں اور ریفنڈز کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ صنعتکاروں کے مطابق مختلف مدات میں ٹیکسوں کی ادائیگی کے باعث کاروباری سرمائے پر دباو¿ بڑھ رہا ہے جبکہ برآمد کنندگان کے ریفنڈز میں تاخیر سے ورکنگ کیپیٹل پھنس جاتا ہے، جس کے نتیجے میں صنعت کو اپنی روزمرہ پیداواری ضروریات پوری کرنے کیلئے اضافی مالی وسائل کا انتظام کرنا پڑتا ہے صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ شرح سود اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی لاگت بھی پیداواری شعبے کیلئے بڑا مسئلہ ہے، مہنگی فنانسنگ کے باعث نئی مشینری کی تنصیب، پیداواری استعداد میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ عالمی مارکیٹ میں مقابلے کیلئے ٹیکسٹائل صنعت کو مسلسل جدید ٹیکنالوجی اور توانائی بچانے والی مشینری میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے اے پی ٹی ایم اے اور دیگر ٹیکسٹائل نمائندہ تنظیموں نے حکومت کے ساتھ مختلف سطحوں پر مذاکرات میں بجلی، گیس، ٹیکس، شرح سود، ریفنڈز اور برآمدی سہولتوں کے مسائل اٹھائے ہیں۔ صنعت کا مطالبہ ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے توانائی کے نرخ خطے کے مسابقتی ممالک کے برابر لائے جائیں، برآمدی صنعت کو قابل اعتماد بجلی و گیس فراہم کی جائے، زیر التوا ریفنڈز فوری ادا کیے جائیں اور ٹیکس پالیسی میں مستقل مزاجی اختیار کی جائے حکومت کی جانب سے بھی صنعت کے مسائل کے حل کیلئے اے پی ٹی ایم اے اور دیگر صنعتی تنظیموں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ پاور ڈویژن نے صنعتی صارفین کیلئے ٹائم آف یوز ٹیرف سمیت مختلف تجاویز پر صنعتکاروں سے مشاورت کی ہے جبکہ بجٹ سازی اور صنعتی پالیسی کے حوالے سے بھی ٹیکسٹائل شعبے کی تجاویز حکومت کے سامنے پیش کی گئی ہیں۔ تاہم صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ محض مذاکرات کافی نہیں بلکہ ایسے فوری اقدامات کی ضرورت ہے جن سے پیداواری لاگت کم اور صنعت کا پہیہ مسلسل چلتا رہے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے مطابق عالمی خریدار قیمت، معیار اور بروقت ترسیل کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں، اس لئے پاکستان میں پیداواری لاگت بڑھنے اور برآمدی عمل میں رکاوٹوں سے پاکستانی مصنوعات کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ برآمدی شعبے کا کہنا ہے کہ آرڈرز کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ سے نہ صرف موجودہ کاروبار متاثر ہوتا ہے بلکہ مستقبل کے عالمی آرڈرز بھی دوسرے ممالک منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے اے پی ٹی ایم اے کا مو¿قف ہے کہ حکومت اگر توانائی کے نرخوں میں مسابقتی بنیادوں پر کمی، ٹیکس اور ریفنڈز کے مسائل کا فوری حل، سستی فنانسنگ، خام مال کی دستیابی اور مستقل برآمدی پالیسی یقینی بنائے تو بند ہونے والے یا کم استعداد پر چلنے والے یونٹس کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر جامع پیکیج تشکیل دے کر پیداواری سرگرمیوں اور برآمدات کو تحفظ دیا جائے تاکہ صنعت کی بندش کا سلسلہ روکا اور روزگار کے مواقع برقرار رکھے جا سکیں۔
ٹیکسٹائل صنعت بندش کے خطرے سے دوچار، توانائی لاگت، ٹیکس ، برآمدات کیلئے بڑا چیلنج



















