اسلام آباد: (بیورورپورٹ) دفتر خارجہ نے کہا ہے آرمی چیف کا دورہ ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکی نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا،کشیدگی کے خاتمے ،مشرق وسطی بحران کے حل کےلئے برادر ممالک سے مسلسل رابطہ،امریکہ ،ایران اختلافات کم کرنے کےلئے مخلصانہ و تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے،پاکستان افغانستان کےساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کےلئے تیار ہے، افغانستان کو یقینی بنانا ہو گا سر زمین پاکستان کےخلاف دہشتگردی کےلئے استعمال نہ ہو۔
ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے طاہر انداربی نے کہافیلڈ مارشل کا دورہ ایران سفارتی کوششوں کے تناظر میں تھا، ایرانی حکام سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکراتی حل تلاش کرنے پر بات ہوئی،پاکستان کی کوششیں خطے میں امن و استحکام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کرنے کےلئے ہیں، ایرانی قیادت نے پاکستان کے کردار کو سراہا ، تنازع کے پرامن حل ،خطے میں پائیدار امن کےلئے سفارتی کوششیں جاری رکھےں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہاپاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کی میزبانی کرےگا ،ایک سال کےلئے ایس سی او کی چیئرمین شپ بھی سنبھال لی ،وزیراعظم آئندہ بشکیک میں ہونے والی ایس سی او کانفرنس میں شرکت ،مختلف ممالک کے رہنماﺅں سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے،مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کے تحفظ ،علاقائی استحکام کے فروغ کا دفاعی فریم ورک ،اجتماعی ذمے داریوں ،مشترکہ سلامتی کے مفادات کے عزم کا اظہار کرنےوالے ممالک کیلئے معاہدہ کھلا ہے ،شمولیت کی باضابطہ درخواست پر ریاض ، انقرہ میں شراکت داروں سے مشاورت کے بعد غور ہو گا۔
طاہر انداربی نے کہا دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، ایران، شام و دیگر ممالک کی جانب سے مکہ معاہدے میں دلچسپی کی باضابطہ درخواست موصول ہونے پر غور ہو گا،افغان عبوری حکومت دوحہ فریم ورک سمیت اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرے، کابل کی سر زمین کو ٹی ٹی پی ،بی ایل اے سمیت پاکستان مخالف عناصر کے استعمال سے روکا جائے، افغانستان کے ساتھ ادارہ جاتی رابطے کےلئے تیار ہیں بشرطیکہ قابل تصدیق انسداد دہشتگردی اقدامات ہوں۔
فیلڈ مارشل کا دورہ ایران ٹرمپ، امریکی نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا،دفتر خارجہ


















