لاہور (نعیم جاوید) پیٹرول مہنگا، کرائے بڑھنے کا خدشہ، گھریلو بجٹ بھی متاثر، شہریوں کا فوری ریلیف کا مطالبہ پیٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عام شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ روزنامہ مشرق کے عوامی سروے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے کہا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ان کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے جبکہ بالواسطہ طور پر روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے روزانہ دفتر، دکان یا کاروبار پر جانے کا خرچ بڑھ جائے گا۔ کم آمدنی والے ملازمین کے لیے ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ سفر پر خرچ ہونے لگے گارکشہ ڈرائیوروں خالد اور کمال کے مطابق پیٹرول مہنگا ہونے سے ان کے اخراجات بڑھ گئے ہیں تاہم کرایہ بڑھانے سے مسافروں پر بوجھ پڑتا ہے۔ حکومت کو ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے ڈرائیور اور مسافر دونوں کو ریلیف مل سکے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے شہریوںطارق اور جاوےد نے کہا کہ اگر پیٹرول کی قیمت بڑھنے کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی اضافہ کیا گیا تو روزانہ سفر کرنے والے ملازمین، مزدوروں اور طلبہ کیلئے مشکلات کئی گنا بڑھ جائیں گی۔ نجی ملازمین ناصر اور حمےد کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہورہا جبکہ بجلی، گیس، پٹرول، خوراک اور دیگر ضروری اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد ماہانہ بجٹ میں بچت کرنا مزید مشکل ہوجائے گاطلبہ نے کہا کہ تعلیمی اداروں تک آنے جانے کے لیے روزانہ موٹر سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا پڑتی ہے۔ کرایوں یا پیٹرول کے اخراجات بڑھنے سے تعلیم حاصل کرنا بھی مہنگا ہوجاتا ہے، اسلئے حکومت طلبہ کو سفری ریلیف فراہم کرے گھریلو خواتین کے مطابق ایل پی جی مہنگی ہونے سے براہ راست باورچی خانے کا بجٹ متاثر ہوگا۔ خصوصاً جن علاقوں میں گیس کا کم پریشر رہتا ہے وہاں ایل پی جی سلنڈر خریدنا مجبوری بن جاتا ہے۔ قیمت بڑھنے سے ماہانہ راشن کا بجٹ دوبارہ ترتیب دینا پڑے گاچھوٹے دکانداروں نے کہا کہ دکان تک سامان پہنچانے والی گاڑیوں کے اخراجات بڑھنے سے اشیاءکی ترسیل مہنگی ہوگی جس کا اثر بالآخر صارفین پر پڑے گا۔ حکومت کو صرف پیٹرول کی قیمت کا اعلان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے بعد مارکیٹ میں پیدا ہونے والی مہنگائی کو بھی کنٹرول کرنا چاہیے سبزی اور پھل فروشوں کے مطابق منڈی سے مال لانے والی گاڑیوں کا کرایہ بڑھنے کی صورت میں سبزی اور پھل کی قیمتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ ایندھن مہنگا ہونے کا اثر پیداوار سے زیادہ ترسیل کے مرحلے پر نمایاں ہوتا ہے شہریوں نے مجموعی طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بلاجواز اضافے کو روکا جائے، ایل پی جی کی سرکاری نرخ پر دستیابی یقینی بنائی جائے اور کم آمدنی والے طبقے کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جائے عوام کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا اصل بوجھ صرف پیٹرول پمپ یا ایل پی جی سلنڈر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی لہر گھر کے کچن، بچوں کی تعلیم، روزگار کے سفر اور روزمرہ خریداری تک پہنچتی ہے۔ حکومت کو قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اس کے معاشرتی اور معاشی اثرات کا بھی فوری تدارک کرنا ہوگا۔
پٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، عوام کا بجٹ مزید متاثر ہونے کا خدشہ


















