واشنگٹن (بیورو رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلان اے یعنی ایران پر محدود حملے کی ناکامی کی صورت میں پلان بی پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے صدر ٹرمپ نے پلان بی کے تحت ایران کی موجودہ حکومت کی تبدیلی کا اٹل فیصلہ کرلیا ، اگر محدود حملوں کے باوجود ایران نے لچک نہ دکھائی تو وسیع فوجی مہم شروع کی جا سکتی ہے، مقصد براہ راست ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا کردار اور ایران کی موجودہ حکومت و اعلیٰ ترین سیاسی نظام کو ختم کرنا ہوگا،قبل ازیں پلان اے کے تحت صدر ٹرمپ نے معاہدہ کےلئے ایران پر محدود حملوں کے ذریعے دباو ڈالنے کا اعلان کیا تھاتاہم اگر اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو رواں سال کے آخر میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کےلئے کہیں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے،نیویارک کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی حلقوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے ممکنہ ابتدائی حملہ ایران کو جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کےلئے کیا جا سکتا ہے، حملہ محدود نوعیت کا ہوگا جس میں ازیں پاسداران انقلاب کے مراکز، ایرانی فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، بیلسٹک میزائل تنصیبات، یا جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پلان بی، ٹرمپ نے حملے میں ناکامی پر ایرانی حکومت گرانے کا منصوبہ بنالیا



















