واشنگٹن (مشرق نیوز) عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے توانائی شعبے میں سبسڈی میں نمایاں کمی پر زور دیا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدے کے تحت توانائی شعبے میں سبسڈی میں بتدریج کمی پراتفاق ہوگیا، آئی ایم ایف کے مطالبے پراگلے مالی سال توانائی شعبے میں سبسڈی 1186 ارب سے کم کرکے 830 ارب مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
سبسڈی صرف زرعی ٹیوب ویلز، قبائلی علاقوں کے واحبات تک محدود رکھنے کی تجویز ہے۔ اسکے علاوہ آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس ٹیرف میں بھی بروقت ایڈجسٹمنٹ کی یقین دیہانی دیہانی بھی کرائی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے پرقابو پانے،بجلی چوری اور لائن لاسز میں کمی لانے پر بھی زور دیا گیا ہے، حکومت نے بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کا پلان شیئر کر دیا ہے۔اگلے مالی سال گردشی قرضے کا بہاو صفر پر لانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ آئی ایم ایف نے مالی سال 2031 تک پاور سیکٹر گردشی قرض کو مکمل ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
حکام کے مطابق حکومت کی توانائی کے شعبے کی بہتری اوراصلاحاتی پیکیج پرکام کر رہی ہے،حکومت نے آئی ایم ایف سے بجلی اورگیس سیکٹرمیں ریکوری بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا نجی انتظام میں منتقلی 2027 کے اوائل تک متوقع ہے۔
آئی ایم ایف کیساتھ شعبہ توانائی میں سبسڈی بتدریج کم کرنے پر اتفاق



















