کراچی (مشرق نیوز) پاکستان میں آن لائن فراڈ اورسائبر سکیمز میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ماہرین نے بینکاری شعبے میں مصنوعی ذہانت کے وسیع استعمال پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی مشکوک مالی لین دین کی بروقت نشاندہی اورروک تھام کے ذریعے صارفین اور مالیاتی اداروں کو بڑے نقصانات سے بچاسکتی ہے۔
بینکنگ محتسب پاکستان کے اعدادوشمارکے مطابق بینکاری فراڈسے متعلق شکایات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، سال 2025 کے دوران ایسی شکایات کی تعداد 4,615 تک پہنچ گئی، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 4,171 اور 2023 میں 3,489 تھی، جو سائبر جرائم میں تشویشناک اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب سٹیٹ بینک کے پاکستان فنانشل انکلوژن انڈیکس 2024 کے مطابق مالی شمولیت کااشاریہ 54۔8 سے بڑھ کر 58۔1 ہوگیا،جبکہ بالغ آبادی میں بینک اکاونٹس رکھنے والوں کاتناسب 67 فیصد تک پہنچ چکاہے، تاہم کوالٹی کااشاریہ 43۔9 پر برقرار ہے، جو خدمات کے معیار،مالیاتی آگاہی اور سائبر سکیورٹی میں موجودخامیوں کی نشاندہی کرتاہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کے ساتھ سائبر حملوں، فشنگ، شناختی چوری، ادائیگیوں میں فراڈاور اکاونٹس پر غیرقانونی قبضے جیسے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں اسلئے جدید سکیورٹی نظام ناگزیر ہوچکے ہیں۔ اے آئی کوالٹی انجینئرنگ کے ماہرمحمد ولید کے مطابق مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی نظام لاکھوں مالی لین دین کاحقیقی وقت میں تجزیہ کرکے غیرمعمولی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کر سکتے ہیںجس سے روایتی نگرانی کے مقابلے میں فراڈکی زیادہ موثر طریقے سے روک تھام ممکن ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بینکوں، ریگولیٹرز،ڈیجیٹل مالیاتی اداروں اوردیگر متعلقہ فریقوں کو اے آئی پر مبنی فراڈ مانیٹرنگ نظام اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنی تکنیکی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرناچاہیے، تاکہ بدلتے ہوئے سائبرخطرات کاموثر اندازمیں مقابلہ کیاجاسکے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی سی ٹی ایم 360 کے مطابق پاکستان میں 2019 سے 2023 کے درمیان فشنگ حملوں میں دس گنااضافہ ہوا،جبکہ مال وی آر، چوری شدہ اسناداور ادائیگیوں کے ڈیٹاسے متعلق دیگرسائبرخطرات میں بھی 8 گنااضافہ ریکارڈکیاگیا۔
آئی پاتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالصمدخان نے کہاکہ بینکوں، برانچ لیس بینکاری اداروں اورفن ٹیک کمپنیوں کو اے آئی سے چلنے والے جدیدفراڈمینجمنٹ نظام اپنانے چاہئیں کیونکہ سائبرجرائم پیشہ عناصر مسلسل نئے طریقے اختیارکررہے ہیںجن سے نمٹنے کیلئے روایتی نظام کافی نہیں رہے۔
ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کیلئے جدید سکیورٹی نظام ناگزیرہے: بینکنگ محتسب



















