نیویارک (مشرق نیوز) سائنسدانوں نے تپ دق (ٹی بی) کیخلاف ناک کے ذریعے دی جانے والی ایک نئی تجرباتی ویکسین تیار کرلی۔ نیسل ویکسین کے جانوروں پر ہونے والے ابتدائی تجربات سے حاصل ہونے والے حوصلہ افزا نتائج جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن میں شائع ہوئے۔
ماہرین کے مطابق 2024 میں تپ دق دنیا بھر میں ایک ہی جرثومے سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ بن گئی تھی اور اس نے کورونا وائرس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اگرچہ موجودہ اینٹی بائیوٹک علاج عام طور پر موثر ثابت ہوتا ہے لیکن اس کا چھ ماہ پر مشتمل طویل اور پیچیدہ علاج مریضوں کیلئے مکمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کے باعث علاج ادھورا رہ جانے، بیماری دوبارہ ابھرنے اور دوا کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی مسئلے کے پیش نظر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن تپ دق کے خلاف نئی ویکسینز کی تیاری کی بھرپور حمایت کر رہی ہے تاکہ موجودہ علاج کو مزید موثر بنایا جا سکے اور علاج کا دورانیہ کم کیا جا سکے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے محققین نے ایک تجرباتی ڈی این اے نیسل ویکسین تیار کی ہے جس میں relMtb اور Mip3 نامی دو جینز کو یکجا کیا گیا ہے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسٹائلیانی کارانیکا کے مطابق تپِ دق کے جراثیم میں موجود relMtb جین ایک ایسا پروٹین بناتا ہے جو بیکٹیریا کو اینٹی بائیوٹکس، آکسیجن کی کمی اور غذائی قلت جیسے مشکل حالات میں زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ نئی ویکسین کا مقصد اسی حفاظتی نظام کو نشانہ بنا کر جراثیم کے خلاف جسم کے مدافعتی ردعمل کو مزید موثر بنانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ انسانی آزمائشوں میں بھی یہی نتائج سامنے آئے تو یہ ویکسین مستقبل میں تپِ دق کے علاج اور اس کی روک تھام میں اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔
سائنسدانوں نے ٹی بی کیخلاف نئی تجرباتی ویکسین تیار کرلی



















