ایم اے پاس سے سویپر کا کام کرانے پر نظام کو شاباش دینی چاہیے، آئینی عدالت


اسلام آباد:(بیورورپورٹ)نابالغ بچوں کے مقدمات میں سرپرست کی تقرری لازم،آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہانابالغ بچوں ،ضعیف افراد،پردہ نشین خواتین کے مقدمات میں سمجھوتہ عدالتی جانچ پڑتال سے مشروط ، کسی بھی مقدمے کے آغاز پر ہی کم عمر فریق کا تعین کیا جائےگا، کم عمر کے حقوق کا تحفظ کئے بغیر فیصلہ نہیں کیا جائےگا،کم عمر افراد کیلئے ذاتی مفاد نہ رکھنے والے کو سرپرست مقرر کیا جائے گا، نابالغ کی ملکیت کے تنازع میں غیر ضروری عجلت نہیں کی جائےگی۔

عدالت نے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم ،فیصلے کی نقول تمام سول،ریونیو کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مقدمے کی کارروائی چلانے کی ہدایت کردی، 20 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا۔

دریں اثناخیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کی سوئیپر ملازمت کیس پر سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کیا اب ایم اے پاس کرنےوالا شخص سوئیپر کا کام کرےگا،10سال بعد ملازمت سے نکالنا بھی مناسب نہیں ہوگا،صوبائی حکومت شکایت کنندہ کو کسی دوسری جگہ ملازمت دے،کیا خیبرپختونخوا اتنا صاف ستھرا ہے سوئیپر کی ضرورت ہی نہیں، صاف ستھرا تو کسی اور صوبے کا سنا تھا،ایم اے پاس شخص سے سوئیپر کا کام کرانے پر نظام کو شاباش دینی چاہیے،دوران سماعت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بھی پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا ملازم سے کیا کام لیا جاتا ہے، ایجوکیشن افسر نے کہاجھاڑو لگانا اور صفائی کرنا ذمہ داری ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کیا جھاڑو لگانے پر کسی کو شرم نہیں آتی، ایم اے پاس شخص کا سوئیپر کی ملازمت کرنا المیہ ہے، بعد ازاں عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔