اقوام متحدہ امن کوششوں کامعترف،کردار جاری رکھیں گے،وزیراعظم

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)وزیراعظم سے اقوام متحدہ سیکرٹری شپ کے امیدواروں کی ملاقاتیں، عالمی امن کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

شہبازشریف نے سیکرٹری جنرل عہدے کے امیدوار میکی سال کا خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کےلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ،عالمی امور میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کےلئے پاکستان کی مضبوط ، غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا اورامید ظاہر کی اقوام متحدہ کی آئندہ قیادت ادارے کے 3بنیادی ستونوں عالمی امن و سلامتی، ترقی ، انسانی حقوق کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کےلئے موثر کردار ادا کرے گی۔

میکی سال نے اقوام متحدہ کےلئے پاکستان کی دیرینہ ،گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے عالمی امن کے فروغ کےلئے جاری کوششوں میں پاکستانی قیادت کے تعمیری کردار کو سراہا۔

امیدوار ریبیکا گرینسپین نے بھی شہباز شریف سے ملاقات کی،وزیراعظم نے کثیرالجہتی تعاون کےلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ منشور کے مقاصد ،اصولوں کے فروغ و پاسداری کےلئے پاکستان کے پائیدار عزم کا اظہار کیااور کہاعالمی امن، سلامتی ،خوشحالی کے فروغ کےلئے سلامتی کونسل قراردادوں پر مو¿ثر و مکمل عملدرآمد، بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے،ریبیکا گرینسپین نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے دیرینہ اور قابل قدر کردار کو سراہا اور حالیہ علاقائی امن کے فروغ کےلئے پاکستان کی تعمیری کوششوں کی تعریف کی۔

دریں اثنا اپنے بیان میںوزیراعظم نے کہا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل عہدے کے امیدوار میکی سال کا اسلام آباد میں خیرمقدم کرنا باعث مسرت، کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ چارٹر اور مضبوط اقوام متحدہ کےلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

دریں اثنا اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے 2 سال میں ایس ایم ای قرضوں کا حصہ 10 فیصد تک بڑھانے کا ہدف دیتے ہوئے کہاپائیدار معاشی ترقی کےلئے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے،ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ،بینک ترجیحی بنیادوں پر قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں،بہتر کارکردگی دکھانےوالے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائےگی ،خود ہر ماہ منصوبے پر پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرونگا۔

علاوہ ازیں ن لیگ سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاگلگت کی تعمیروترقی،نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت ،باعزت روزگار کی فراہمی ترجیح ،4 دانش سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں، اگلے سال سے کلاسز شروع ہو جائیں گی،گلگت کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات ،معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،عوام کو درپیش مسائل کے حل، بہتر طرز حکمرانی ،شفافیت کے فروغ کےلئے وفاقی و مقامی قیادت کے درمیان موثر رابطہ ناگزیر ہے۔