پٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل کیلئے موثر پرائس کنٹرول میکنزم بنایا جائے، شہری

لاہور (سپیشل رپورٹر) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ رد و بدل کے حوالے سے لاہور کے مختلف علاقوں گلبرگ، جوہر ٹاﺅن، اقبال ٹاﺅن، ٹاﺅن شپ، شاہدرہ، مغلپورہ، گجرپورہ، ہربنس پورہ اور اندرون شہر میں کئے گئے عوامی سروے میں شہریوں کی جانب سے ملے جلے مگر واضح تاثرات سامنے آئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے کیونکہ لاہور میں روزانہ استعمال ہونے والی سبزیوں، پھلوں، دودھ، گوشت، آٹے اور دیگر اشیاءکی ترسیل کا انحصار ٹرانسپورٹ پر ہے۔ جیسے ہی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹرز کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں جس کے بعد تھوک اور پرچون سطح پر اشیاءکی قیمتیں بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ملازمین اور گھریلو صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے خاندانوں کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا اور قوت خرید مزید متاثر ہو گی۔ دوسری جانب لاہور کے بعض تاجروں، دکانداروں اور کاروباری حلقوں نے رائے دی کہ اگر حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک منتقل کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات سستی کرتی ہے تو اس سے نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے، مارکیٹ میں اشیاءکی سپلائی بہتر ہوگی اور مہنگائی کے دباﺅ میں کچھ حد تک کمی آسکتی ہے۔ تاہم کئی شہریوں نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ ماضی میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باوجود لاہور کی مارکیٹوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی بنیادی وجہ کمزور مارکیٹ نگرانی اور ناجائز منافع خوری ہے۔ سروے میں شامل شہریوں کی اکثریت نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم قیمتوں میں کسی بھی رد و بدل کے ساتھ پرائس کنٹرول میکنزم کو موثر بنائے، ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرے اور مارکیٹوں میں سخت چیکنگ کا نظام نافذ کرے تاکہ قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ صارفین تک پہنچ سکے اور اضافے کی صورت میں تاجروں کی جانب سے غیر ضروری منافع خوری کا راستہ روکا جاسکے۔