لاہور (میاںذیشان) پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں اپنی تنظیمی فعالیت، عوامی رابطہ مہم اور سیاسی اثرورسوخ کو ازسرنو مضبوط بنانے کیلئے ایک جامع اور مرحلہ وار حکمت عملی پر عملدرآمد کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت جیالا فورس کی تشکیل، عوامی شکایت سیلز کے قیام اور یونین کونسل سے ڈویژنل سطح تک ورکرز کنونشنز کے انعقاد کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد نہ صرف کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنا بلکہ شہری مسائل کو براہِ راست پارٹی پلیٹ فارم پر اجاگر کرتے ہوئے عوام کے ساتھ مستقل رابطہ استوار کرنا، تنظیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور آئندہ بلدیاتی و عام انتخابات سے قبل لاہور میں پارٹی کی سیاسی موجودگی کو موثر بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت شہر کے تمام ٹاﺅنز، یونین کونسلوں اور وارڈز میں مرحلہ وار جیالا فورس تشکیل دی جائے گی، جس میں نوجوانوں، خواتین، طلبہ اور سینئر کارکنوں کو شامل کر کے ایک فعال رضاکار نیٹ ورک قائم کیا جائے گا جو عوامی اجتماعات، سیاسی سرگرمیوں، فلاحی مہمات، ہنگامی صورتحال اور تنظیمی پروگراموں میں پارٹی کا متحرک بازو ثابت ہوگا۔ اسی سلسلے میں مختلف سطحوں پر عوامی شکایت سیلز بھی قائم کیے جا رہے ہیں جہاں شہریوں کو پانی، سیوریج، صفائی، تجاوزات، صحت، تعلیم، مہنگائی، سرکاری دفاتر میں بدانتظامی اور دیگر شہری مسائل کے اندراج کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ متعلقہ اداروں تک ان شکایات کو پہنچانے، ان کی مسلسل پیروی کرنے اور متاثرہ شہریوں کو پیشرفت سے آگاہ رکھنے کا مربوط نظام بھی تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ پارٹی خود کو عوامی مسائل کے حقیقی ترجمان کے طور پر منوا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شکایت سیلز کی رپورٹس ضلعی اور صوبائی قیادت کو باقاعدگی سے ارسال کی جائیں گی تاکہ شہری مسائل پر موثر سیاسی اور انتظامی دباﺅ ڈالا جا سکے۔ دوسری جانب لاہور کے تمام حلقوں میں مرحلہ وار ورکرز کنونشنز کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جن میں تنظیمی انتخابات، رکن سازی مہم، انتخابی تیاری، سوشل میڈیا حکمت عملی، پولنگ ڈے مینجمنٹ، سیاسی تربیت اور پارٹی منشور کو گھر گھر پہنچانے کے اہداف پر کارکنوں کو بریف کیا جائے گا، جبکہ سینئر قیادت براہِ راست کارکنوں سے ملاقات کر کے ان کی تجاویز اور تحفظات بھی سنے گی۔ اس مہم کے دوران محلہ، وارڈ اور یونین کونسل سطح پر تنظیمی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کیا جائے گا، غیر فعال عہدیداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور متحرک کارکنوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی لاہور میں صرف جلسوں اور احتجاجی سیاست تک محدود رہنے کے بجائے مسلسل عوامی رابطے، فلاحی سرگرمیوں، مسئلہ حل کرنے کی سیاست اور گراس روٹ آرگنائزیشن پر توجہ دے رہی ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ اسی حکمت عملی کے تحت نوجوان ووٹرز، خواتین، مزدوروں، تاجروں، وکلا، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے مختلف طبقات سے رابطوں کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا ٹیموں اور جدید کمیونیکیشن سسٹم کو بھی تنظیمی ڈھانچے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کی یہ نئی حکمت عملی لاہور جیسے بڑے سیاسی مرکز میں پارٹی کی تنظیمی بحالی، کارکنوں کی فعالیت میں اضافے، عوامی مسائل پر موثر آواز بلند کرنے اور آئندہ انتخابی معرکوں کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرنے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے، جس کے ذریعے پارٹی اپنی روایتی سیاسی شناخت کو جدید تنظیمی انداز کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے شہر میں اپنی سیاسی حیثیت مزید مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کولاہور میں ازسرنو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات شروع


















