لاہور (اپنے نمائندے سے) پاکستان ریلویز کے کمرشل اثاثے: اربوں کی جائیدادیں قبضوں، کم قیمت لیز اور مالی بے ضابطگیوں کی زد میں، 34 ہزار سے زائد کمرشل یونٹس سے 13 ارب آمدن، 2,355 یونٹس پر ناجائز قبضہ، 40 ارب سے زائد مالیت کے کیسز نیب کو ریفر، اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔ پاکستان ریلوے کے کمرشل اثاثے ایک طرف قومی ادارے کیلئے اربوں روپے کی آمدن کا ذریعہ بن رہے ہیں، تو دوسری جانب آڈٹ رپورٹس، سرکاری دستاویزات اور پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار قبضوں، کم قیمت لیز، واجبات کی عدم وصولی اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جس سے ریلوے کو ہر سال اربوں روپے کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہے۔ منسٹری آف ریلویز کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ریلوے کے پاس ملک بھر میں 34 ہزار 763 کمرشل یونٹس موجود ہیں، جن میں دکانیں، گودام، دفاتر، پلازے اور دیگر تجارتی املاک شامل ہیں۔ ان جائیدادوں سے گزشتہ چار برس کے دوران 13 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل ہوا، جبکہ ان کی تعمیر و مرمت پر گزشتہ پانچ سال میں 30 کروڑ 64 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ وزیر ریلوے کے مطابق رواں مالی سال میں ریلوے نے 115 ارب روپے کا ریونیو ہدف حاصل کیا جبکہ آپریٹنگ اخراجات میں 3.6 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ریلوے کی 2 ہزار 355 کمرشل جائیدادیں ناجائز قابضین کے زیر استعمال ہیں، جن میں سب سے زیادہ 1,538 یونٹس سکھر ڈویڑن میں، 589 کراچی، 123 کوئٹہ، 36 ملتان، 24 لاہور، 6 پشاور جبکہ 38 یونٹس سی ایس ایف ڈائریکٹوریٹ کے زیر انتظام علاقوں میں واقع ہیں آڈیٹر جنرل کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ریلوے کے پراپرٹی اینڈ لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ چار برس کے دوران 12 ارب 49 کروڑ 89 لاکھ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں رپورٹ کے مطابق 2 ہزار 617 ایکڑ اراضی پر تجاوزات قائم ہیں جن کی مالیت 3 ارب 49 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد میں 2 ارب 17 کروڑ روپے مالیت کی ریلوے اراضی پر غیر قانونی پٹرول پمپ قائم کیے گئے رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کراچی کے گیلانی اسٹیشن کی 63 ایکڑ قیمتی اراضی، جس کی مالیت تقریباً 4 ارب 40 کروڑ روپے ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود تاحال واگزار نہیں کرائی جا سکی دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلوے نے 40 ارب روپے سے زائد مالیت کے مبینہ فراڈ، غیر قانونی قبضوں اور بے ضابطگیوں کے متعدد کیسز قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیے ہیں۔ ان میں رائل پام کنٹری کلب کے 216.2 ملین روپے واجبات، کراچی میں 42 ایکڑ اراضی سے متعلق 203 ملین روپے کا نقصان، لاہور شالیمار کی 18 ایکڑ اراضی جس کی مالیت 3.151 ارب روپے بتائی گئی، اور چمن و کوئٹہ میں 3.1 ارب روپے مالیت کی اراضی سے متعلق مقدمات شامل ہیں خصوصی آڈٹ میں غیر شفاف لیز معاہدوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکھر میں الشفاءٹرسٹ اسپتال کو 20 ہزار 538 مربع یارڈ اراضی ایک روپے فی مربع یارڈ کے حساب سے 33 سالہ لیز پر دی گئی، تاہم بعد ازاں اس اراضی کو مبینہ طور پر شادی ہال کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ اسی طرح لاہور اور فیصل آباد میں بھی بعض مقامات پر گوداموں کیلئے دی گئی زمین پر تجارتی دکانیں قائم کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے آڈٹ رپورٹ کے مطابق سرکاری و نجی اداروں سے 9 ارب 95 کروڑ روپے سے زائد واجبات وصول نہیں کیے جا سکے، جبکہ 612.81 ملین روپے کرایہ اور لیز کی مد میں ریلوے ریونیو اکاو¿نٹس کے بجائے نجی بینک اکاو¿نٹس میں جمع ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا۔ مزید یہ کہ پارکنگ اسٹینڈز اور لگیج وینز کم نرخوں پر لیز پر دینے سے 620 ملین روپے کا نقصان ہوا، جبکہ ٹریک ایکسس معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے سالانہ 6.1 ارب روپے کے ممکنہ نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پاکستان ریلوے کو 34 ہزار کمرشل یونٹس سے 13 ارب ریونیو حاصل



















