واشنگٹن، تہران (مشرق نیوز) امریکی فوج نے مسلسل تیسری رات ایران پر حملے کئے ہیں۔ بندر عباس، قشم، جزیرہ کیش اور بوشہر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی۔ ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز پر کروز میزائل حملے کئے، جواب میں خطے میں امریکی تنصیبات بھی نشانہ بن گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے 13 جولائی کو ایران کے خلاف حالیہ حملوں کی لہر مکمل کر لی ہے۔ سینٹ کام نے دعویٰ کیا گیا کہ پانچ گھنٹے پر مشتمل اس مشن کے دوران، امریکی افواج نے کامیابی کے ساتھ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام کے مطابق اس مشن کے دوران، امریکی افواج نے ایران میں فوجی اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا جن میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس شامل ہیں، تاکہ تجارتی جہازرانی پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور بنایا جا سکے۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات، اور بحری صلاحیتوں کے خلاف درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کئے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں، امریکی افواج چوکس، مہلک اور ہر وقت تیار ہیں۔
دوسری جانب ترجمان پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو سپر ٹینکروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا، متعلقہ دو ٹینکروں نے ہماری وارننگ کو نظر انداز کیا۔ بیان کے مطابق بحرین کے جفیر ایئربیس پر اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی افواج کی رہائشی عمارت بھی ہدف بنی، آبنائے ہرمزکی بحالی میں تاخیر سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی فوج کے مسلسل تیسری رات ایران پر حملے، ایران کے بھی جوابی وار



















