لاہور (انویسٹی گیشن سیل/ آصف مغل) جنرل ہسپتال میں بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین کے غیر قانونی سکیل کی وجہ سے جنرل ہسپتال کے بجٹ کو بھاری نقصان جبکہ بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین کو نوازا جانے لگا، ذمہ داران افسران خاموش تماشائی۔ تفصیلات کے مطابق جنرل ہسپتال میں بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین شہربانو رضوان، آصف، اویس، شکیل جنید میو، میاں حامد ندیم جن کو جنرل ہسپتال کی انتظامیہ عرصہ دراز سے نواز رہی ہے جو ہر طرح کی کرپشن میں بھی ملوث ہیں اس کے باوجود بورڈ آف مینجمنٹ کے یہ ملازمین جو 9 سکیل سے 14 اور 16 سکیل پر کام کر رہے ہیں اور انتظامیہ کی ملی بھگت ہسپتال کے بجٹ کو لوٹ رہے ہیں عرصہ دراز سے ہسپتال ہر قسم کی بدعنوانی میں یہ لوگ ملوث ہیں۔ انتظامیہ کا ان کو نوازنا اور مرضی کی سیٹوں پر ڈیوٹی دینا ایم ایس جنرل ہسپتال ڈاکٹر فریاد اور پرنسپل فاروق افضل کی کارکردگی پر کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے مگر اس کے باوجود ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں کی جا رہی الٹا ان کو ہر طرح سے نوازا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے نوٹس کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ آف مینجمنٹ کے کرپٹ ترین ملازمین جن کو انتظامیہ کی طرف سے نوازا جا رہا ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور جو غیر قانونی سکیلوں سے اضافی تنخواہیں سالوں سے لے رہے ہیں، انکو ریکور کر کے ہسپتال کے بجٹ میں جمع کروایا جائے ۔
لاہور(ہیلتھ رپورٹر سے) جنرل ہسپتال کے اے ایم ایس ایڈمن جعفر شاہ نے بورڈ ملازمین کی پرموشن کے حوالے سے موقف دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ ملازمین کی پرموشن نہیں ہو سکتی، یہ پتہ نہیں کیسے پرموٹ ہو گئے ہیں۔ بورڈ جس سکیل میں بھرتی کرتا ہے اس ہی سکیل میں رہتے ہیں جتنا مجھے پتہ ہے۔
لاہور(ہیلتھ رپورٹر سے) موقف کیلئے ایم ایس جنرل ہسپتال ڈاکٹر فریاد حسین سے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر رابطہ نہ ہوسکا۔ اگر موصوف اپنا موقف دینا چاہیں تو رابطہ کر سکتے ہیں۔ ادارہ من و عن شائع کرنے کا پابند ہے۔
جنرل ہسپتال، بورڈ آف مینجمنٹ ملازمین کے غیرقانونی سکیل، بھاری مالی نقصان ، ذمہ دار افسران کی خاموشی


















