جنرل ہسپتال انتظامیہ کی غفلت، سکیل9 کا ملازم14ویں میں پرموٹ

لاہور(انویسٹی گیشن سیل /آصف مغل ) جنرل ہسپتال کا بورڈ آف مینجمنٹ 9 سکیل کا ڈسپنسر میاں حامد ندیم غیر قانونی طور پر 14 سکیل میں کام کرنے لگا جبکہ بورڈ آف مینجمنٹ کا ملازم ریگولر نہیں ہوتا اور نہ ہی اسکی پرموشن ہو سکتی اس کے باوجود جنرل ہسپتال کی انتظامیہ کی نہ اہلی میاں حامد ندیم 14 سکیل میں کام کرنے لگا جبکہ محکمہ صحت میں ایسا قانونی طور پر ممکن ہی نہیں۔ تفصیلات کے مطابق جنرل ہسپتال میں کام کرنا والا ڈسپنسر میاں حامد ندیم بورڈ آف مینجمنٹ میں 9 سکیل پر بھرتی ہوا تھا کافی عرصہ کام کرنے کے بعد میاں حامد ندیم جنرل ہسپتال اپنا اچھا اثر و رسوخ بنا لیا جس کی بنا پر جنرل ہسپتال کے باہر ہی ذاتی کاروبار بھی شروع کر لیا۔ ایک ڈسپنسر ہو کر ذاتی ٹیسٹنگ لیب بنا لی جس کا نام چغتائی پلس لیب ہے جو ”مشرق“ ڈیجیٹل پر خبر نشر ہونے کے بعد ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے سیل کر دی گئی اس کے باوجود جنرل ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ میاں حامد ندیم ہسپتال میں ملازمت اور ہسپتال کے باہر ذاتی لیب بنا کر خوب مالا مال ہوا جس کی وجہ سے جنرل ہسپتال کے کرپٹ افسران کی جیبیں بھی گرم کرتا رہا ہے۔ اسی باعث بورڈ آف مینجمنٹ کا ملازم ہونے کے باوجود 9 سکیل سے 14 سکیل میں پرموٹ ہو گیا اور اب کافی عرصہ سے 14 سکیل پر کام کر رہا ہے جو غیر قانونی ہے۔ محکمہ صحت میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ 9 سکیل سے 14 سکیل تک پرموشن ہو سکتی ہو لیکن میاں حامد ندیم نے انتظامیہ کی ملی بھگت سے پروموشن بھی حاصل کی اور کافی عرصہ سے 14 سکیل میں ڈیوٹی کر رہا جو غیر قانونی ہے اور ہسپتال کے بجٹ کا بھی نقصان ہے۔ ہر مہینے بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین کو غیر قانونی طور پر لاکھوں روپے کی تنخواہیں دی جا رہی جو دوسرے ملازمین کی حق تلفی ہے ۔شہریوں اور ملازمین نے ارباب اختیار سے اس معاملے پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے میاں حامد ندیم کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بورڈ آف مینجمنٹ جتنے ملازمین غیر قانونی طور پر اضافی تنخواہیں لے رہے ہیں اور جتنی لے چکے ہیں وہ ریکور کر کے ہسپتال کے بجٹ میں جمع کروائی جائیں۔

ابھی جمعہ کا ٹائم، مصروف ہوں بعد میں آنا، موقف پر پرنسپل کا جواب
لاہور(ہیلتھ رپورٹر سے ) موقف کیلئے پرنسپل آفس مشرق کی ٹیم گئی پرنسپل صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جمعہ کا ٹائم ہے، میں مصروف ہوں بعد میں آنا، جب دوبارہ رابطہ کیا گیا تو رابطہ نہ ہو سکا۔ اگر موصوف اپنا موقف دینا چاہیں تو رابطہ کر سکتے ہیں ادارہ من و عن شائع کریگا۔