لاہور(نوید چودھری)میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے اعلیٰ حکام کی مبینہ غفلت، لاپرواہی اور مجرمانہ خاموشی کے باعث شہر کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری اراضی لاوارث چھوڑے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ انتہائی باوثوق ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق ماضی میں لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم 26 کے قریب ایسی محصول چونگیاں تھیں جو نظام کے خاتمے کے بعد کارپوریشن کی ملکیت بن چکی تھیں، مگر سابقہ میٹروپولیٹن آفیسر شاہد عباس کاٹھیا اور سابق میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن کاشف جلیل جیسے بااختیار افسران اپنی تعیناتی کے دوران تمام تر اختیارات اور بھرپور طاقت کے باوجود ان قیمتی اراضیوں کا سراغ لگانے اور انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس افسوسناک غفلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان 26 کے قریب قیمتی ترین اراضیوں میں سے کارپوریشن کے ریکارڈ میں صرف دو چونگیوں کا سراغ مل سکا ہے، جن میں سے ایک شیخوپورہ خاکی روڈ کی چونگی ہے جسے حال ہی میں انتہائی پراسرار حالات میں ماہانہ کرائے پر دیدیا گیا ہے جبکہ دوسری اہم ترین اراضی جی ٹی روڈ کی تعمیر و توسیع کے دوران ایکوائر کی گئی تھی مگر محکمہ کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اتنی بڑی اراضی کی ایکوزیشن کے بدلے ملنے والی آمدن کی رقم یا معاوضہ وصول کیے جانے کے کوئی دستاویزی شواہد یا ثبوت تاحال کارپوریشن کے ریکارڈ میں ثابت نہیں ہو سکے۔ بلدیہ عظمی کا درد رکھنے والے افسران نے شاہد عباس کاٹھیہ اور کاشف جلیل اور دیگر متعلقہ سابقہ و حالیہ افسران کی اس سنگین نااہلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ افسران اتنے بااثر اور بااختیار عہدوں پر فائز تھے تو انہوں نے لاہور کے مضافات میں موجود ایم سی ایل کی ملکیتی قیمتی اراضیوں کا پتہ کیوں نہیں لگوایا اور یہ اربوں روپے کا سرکاری اثاثہ اب کہاں اور کس کے غیر قانونی قبضے میں ہے؟ اس کھلے مالیاتی نقصان اور مجرمانہ چشم پوشی پر اب اعلیٰ احتسابی اداروں سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان افسران نے کس کے دباو یا مبینہ فائدے کے تحت سرکاری اراضی کو اس طرح لاوارث بننے دیا۔
انتظامی غفلت، شہر میں اربوں کی قیمتی سرکاری زمین لاوارث



















