ورچوئل تھانوںاور سمارٹ پٹرولنگ جیسے منصوبوں پر کام تیز

لاہور (مرزا ندیم بیگ) پنجاب حکومت نے پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ورچوئل تھانوں، سمارٹ پٹرولنگ اور پریڈکٹیو پولیسنگ جیسے جدید منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے۔ پولیس اور محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق منصوبے کا مقصد شہریوں کو پولیس سروسز کی ڈیجیٹل فراہمی، جرائم کی بروقت روک تھام، وسائل کا مو¿ثر استعمال اور خواتین سمیت کمزور طبقات کو تھانوں کے غیر ضروری چکر سے بچانا ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مکمل طور پر نئے تھانے تعمیر کرنے کے بجائے موجودہ تھانوں کو جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر، ویڈیو لنک، ڈیجیٹل کمپلینٹ مینجمنٹ اور آن لائن تفتیشی سہولیات سے اپ گریڈ کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ بڑے شہروں میں الگ ورچوئل سروس سینٹرز قائم کرنے کا ماڈل بھی زیر غور ہے۔منصوبے کے تحت شہری موبائل ایپ، ویب پورٹل، ویڈیو کال یا ہیلپ لائن کے ذریعے شکایت درج کرا سکیں گے، درخواستوں کی آن لائن ٹریکنگ ہوگی، پولیس افسران سے ویڈیو لنک پر رابطہ ممکن ہوگا اور متعدد نوعیت کی شکایات کیلئے شہریوں کو تھانے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین، بزرگ شہری، خصوصی افراد اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد اس نظام سے سب سے زیادہ مستفید ہوں گے کیونکہ انہیں گھر بیٹھے پولیس خدمات تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ خواتین کیلئے علیحدہ ورچوئل ڈیسک اور لیڈی افسران سے آن لائن رابطے کی سہولت بھی منصوبے کا حصہ بنائی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ورچوئل تھانوں کو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی، پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم، ای۔FIR، کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ سسٹم اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ شکایت کے اندراج سے لے کر تفتیش اور پراسیکیوشن تک تمام مراحل آن لائن مانیٹر کیے جا سکیں۔دوسری جانب پنجاب پولیس سمارٹ پٹرولنگ منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے جس کے تحت گشت کرنے والی گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکنگ، ڈیجیٹل ٹیبلیٹس، باڈی کیمرے، خودکار ڈیوٹی مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم رپورٹنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس سے گشت کی موثر نگرانی، پولیس کی بروقت رسپانس اور وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی۔ اسی سلسلے میں پریڈکٹیو پولیسنگ ماڈل بھی متعارف کرانے کی تیاری جاری ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، کرائم میپنگ، سابقہ جرائم کے ریکارڈ، ہاٹ سپاٹس، وقت اور مقام کے تجزیے کی بنیاد پر ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں جرائم کے امکانات زیادہ ہوں۔ اس کے مطابق پولیس نفری اور گشت کا شیڈول مرتب کیا جائے گا تاکہ وارداتوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ان منصوبوں کی مجموعی لاگت کا حتمی تخمینہ تاحال منظوری کے مراحل میں ہے، تاہم مالی وسائل پنجاب حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP)، محکمہ داخلہ کے ترقیاتی فنڈز، پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور دیگر سرکاری مالی ذرائع سے فراہم کیے جانے کی تجویز ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے مختلف مراحل میں نافذ کیے جائیں گے، اس لیے بجٹ بھی مرحلہ وار جاری کیا جائے گا۔ پولیس حکام کا موقف ہے کہ ورچوئل پولیسنگ سے شہریوں کے مسائل کے حل میں شفافیت آئے گی، شکایات کے اندراج کا وقت کم ہوگا، غیر ضروری رش میں کمی آئے گی، خواتین کیلئے محفوظ ماحول فراہم ہوگا، جبکہ سمارٹ اور پریڈکٹیو پولیسنگ کے ذریعے جرائم کی بروقت نشاندہی، فوری رسپانس، نفری کی مو¿ثر تعیناتی اور مجموعی امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق منصوبے کی حتمی منظوری، بجٹ کی تفصیلات، نفاذ کے شیڈول اور پائلٹ اضلاع کا باضابطہ اعلان متعلقہ فورمز سے منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ڈیجیٹل پولیسنگ کا یہ نظام مستقبل میں روایتی پولیسنگ کے انداز میں نمایاں تبدیلی کا سبب بنے گا۔