واشنگٹن، تہران (بیورورپورٹ+ مشرق نیوز) ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا امریکی منصوبہ دراصل ”ٹرمپ کی لالچ کے سامنے ایران کی ہتھیار ڈالنے“ کے مترادف تھا،الجزیرہ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے ٹیلیگرام بیان میں کہا تہران کی جانب سے دئیے گئے جواب میں ایرانی قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیا گیا ہے اور ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو خودمختاری یا قومی مفادات کےخلاف ہو، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا امریکی مطالبات پر بات چیت کو آگے بڑھانا مشکل، امریکی رویہ مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے، جب بھی ہمیں لڑنے پر مجبور کیا جائےگا، ہم لڑیں گے، جب جنگ مسلط کی جائےگی تو بھرپور جواب بھی دینگے،سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے تو تہران اس موقع سے فائدہ اٹھانے کےلئے تیار ہے، جب بھی سفارت کاری کی گنجائش ہو گی، ہم اس موقع کو استعمال کریں گے،اسماعیل بقائی نے کہا سفارت کاری کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں اور ایران ہر فیصلہ اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کرے گا، پاکستان پیشہ ورانہ طریقے سے ثالثی کا کردارادا کررہا ہے، خطے کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی تجاویز کا جواب دیا، خطے کی سلامتی اور استحکام ایران کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،دوسری جانب ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی عمل کی تازہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا،خبر ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماوں نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،علاو ہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا،ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات ، علاقائی و سفارتی پیش رفت پر بات چیت کی ،مزید بر آں ایرانی وزیر خارجہ نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ۔
امریکہ کو ذمہ دارانہ تجاویز پیش کیں،قومی خودمختاری کیخلاف کوئی معاہدہ قبول نہیں:ایران



















