تہران،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ایران نے واضح کیا ہے عمان سے متوقع معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ایران ،عمان میںآبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل انتظامات پر کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے تو مطلب یہ نہیں ہوگا اہم بحری گزرگاہ فوری طور پر دوبارہ کھول دی جائےگی،مذاکرات صرف تہران اور مسقط کے درمیان ہیں ،امریکہ سے کوئی تعلق نہیں،ممکنہ سمجھوتہ صرف جہاز رانی کے انتظامی طریقہ کار تک محدود ،آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا بند رکھنے کا فیصلہ الگ معاملہ،آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکہ کے روئیے میں تبدیلی ،مبینہ خلاف ورزیوں کے خاتمے پر ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا مثبت مذاکرات کے بعد امید ہے آبنائے ہرمز جلد دوبارہ کھول دی جائے گی،مجوزہ معاہدے میں 2 بنیادی نکات آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام کے معاملات کا کلی حل شامل ہیں،معاہدہ جلد طے پانے کی توقع ہے،آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکہ جواب میں بہت سخت حملہ کرے گا۔
ادھر عرب میڈیا کے مطابق ایران عمان مذاکرات میں اب صرف ایک یا 2معاملات حل طلب رہ گئے ، معاملات بہت زیادہ پیچیدہ نہیں دکھائی دے رہے،کسی بیرونی عنصر نے مذموم مداخلت نہ کی تو معاہدہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی گروہ نے بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں سعودی آئل ٹینکر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کادعویٰ کر دیا،حوثی ترجمان نے کہاآئل ٹینکر وفا کو سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب بحیرہ احمر کے شمالی پانیوں میں نشانہ بنایا ۔
آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی،ایران، سخت حملہ ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی
















