لاہور(قاضی ندیم اقبال)ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن نے صنعتوں سے وابستہ ریٹائرڈ ملازمین کی فلاح و بہبود کے معاملہ کو مزید بہتر اور موثر بنانے کیلئے حکمت عملی وضع کر دی جس پر عملدرآمد کی ذمہ داری ملک بھر میں تعینات آفیسرز اور بالخصوص فیلڈ سٹاف پر عائد ہو گی جبکہ مستقبل کے چیلنجز اور زمینی حقائق کی روشنی میں پالیسی کی تیاری کا کام بھی جاری ہے۔نئی تیار کی جانے والی پالیسی کا مقصد پنشنرز کو مزید موثر سہولیات فراہم کرنا اور ان کی سماجی و معاشی بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کی تکمیل کے بعد ریٹائرڈ صنعتی ملازمین کو درپیش مسائل کے حل اور فلاحی اقدامات کو مزید موثر اور منظم انداز میں نافذ کیا جا سکے گا۔ نئی پالیسی کا اصل مقصد پنشنرز کو بہتر سہولیات کی فراہمی، ان کے مسائل کا بروقت ازالہ اور فلاحی خدمات کے نظام کو مزید مو¿ثر بنانا ہے۔نئی تیار کی جانے والی پالیسی میں ریٹائرڈ ملازمین کی ضروریات اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف تجاویز شامل کی جا رہی ہیں۔ پالیسی کی تکمیل کے بعد اسے متعلقہ فورم سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اس پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق(ای او بی آئی) پاکستان میں نجی شعبے کے ملازمین کو بڑھاپے میں مالی تحفظ فراہم کرنے والا ایک اہم قومی ادارہ ہے۔ اس ادارے کا قیام 1976ءایکٹ کے تحت میں عمل میں آیا، جبکہ اس نے عملی طور پر یکم جولائی 1976ءسے اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ ادارے کا بنیادی مقصد رجسٹرڈ کارکنوں کو بڑھاپا پنشن، معذوری پنشن، ورثا پنشن اور اولڈ ایج گرانٹ جیسی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ای او بی آئی کے تحت ملک بھر میں ہزاروں صنعتی، تجارتی اور خدماتی ادارے رجسٹرڈ ہیں، جہاں لاکھوں کارکن سماجی تحفظ کے اس نظام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ صنعتوں، تجارتی اداروں اور دیگر آجر اداروں کی تعداد وقت کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب یہ تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، تاہم یہ تعداد نئی رجسٹریشن اور بند ہونے والے اداروں کے باعث وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح Lahore ریجن کے تحت بھی ہزاروں صنعتی و تجارتی ادارے ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہیں۔ ذرائع کے مطابق ای او بی آئی کے تحت ورکرز کی رجسٹریشن کا طریقہ کار نسبتاً آسان ہے۔ سب سے پہلے متعلقہ آجر (Employer) اپنے ادارے کی رجسٹریشن کرواتا ہے، جس کے بعد ملازمین کی تفصیلات، قومی شناختی کارڈ، تقرری کی تاریخ اور دیگر ضروری معلومات ادارے کے ریکارڈ میں درج کی جاتی ہیں۔ رجسٹرڈ ملازمین کے لیے ہر ماہ مقررہ شرح کے مطابق آجر کی جانب سے کنٹری بیوشن جمع کرائی جاتی ہے۔ ملازم کے ملازمت کے ریکارڈ اور شراکت کی بنیاد پر مستقبل میں پنشن اور دیگر مراعات کا تعین کیا جاتا ہے۔ای او بی آئی کے تحت پنشن کسی سرکاری پے سکیل یا گریڈ کے مطابق ادا نہیں کی جاتی بلکہ اس کا انحصار قانون میں درج شرائط، بیمہ شدہ ملازم کی قابلِ شمار اجرت، کنٹری بیوشن کی مدت اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ پنشن فارمولے پر ہوتا ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً کم از کم پنشن کی شرح میں بھی اضافہ کرتی رہتی ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ پنشن کے لیے مقررہ عمر، کم از کم قابلِ قبول شراکت کی مدت اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ای او بی آئی کی خدمات کو مزید مو¿ثر بنانے، زیادہ سے زیادہ صنعتوں اور کارکنوں کی رجسٹریشن یقینی بنانے اور پنشن کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے، تاکہ نجی شعبے کے ملازمین کو بڑھاپے میں بہتر معاشی تحفظ حاصل ہو سکے۔ اور غیر رجسٹرڈ کارکنوں اور اداروں کو ای او بی آئی کے دائرہ کار میں لاتے ہوئے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔ ذرائع کے مطابق ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) ملک بھر میں صنعتوں سے وابستہ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور دیگر سماجی تحفظ کی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادارے کے تحت ہزاروں مستحق پنشنرز ہر ماہ مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ مختلف اصلاحات کے ذریعے خدمات کو مزید مو¿ثر اور شفاف بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت ای او بی آئی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جو، ایک نئی پالیسی مرتب کر رہی ہے۔ مجوزہ پالیسی کا مقصد پنشن کے نظام کو زیادہ مو¿ثر، شفاف اور پائیدار بنانا، رجسٹرڈ کارکنوں کی تعداد میں اضافہ کرنا، اور صنعتی و نجی شعبے کے مزید ملازمین کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لانا ہے۔ نئی پالیسی میں پنشنرز کو سہولیات کی فراہمی، ڈیجیٹل نظام کے فروغ، رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے اور ادارے کی مالی استعداد کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آجر اداروں کی جانب سے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے اور شراکت کی بروقت ادائیگی کے لیے بھی مو¿ثر حکمت عملی وضع کی جا سکتی ہے۔
ای او بی آئی کی ریٹائر ملازمین کی فلاح کیلئے حکمت عملی تیار


















