سوشل میڈیا آج کی دنیا کا سب سے طاقتور ذریعہ ابلاغ بن چکا ، پیپلز انفارمیشن بیورو کی آئی ٹی ورکشاپ سے مقررین کا خطاب

لاہور (سپیشل رپورٹر) سوشل میڈیا آج کی دنیا کا سب سے طاقتور ذریعہ ابلاغ بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف معلومات کا فوری ذریعہ ہیں بلکہ رائے عامہ، معاشرتی رویوں اور معاشی سرگرمیوں کو بھی گہرائی سے تبدیل کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے دوسرے شعبوں کی طرح ہماری طرز سیاست کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے جس کے نتیجے میں سیاستدان اب میڈیا ہاوسز کے بجائے براہ راست عوام سے رابطے میں رہتے ہیں۔سوشل میڈیا نے اب سیاست کو عوام کے قریب لا کر کھڑا کیا ہے۔سیاسی لیڈر شپ اب براہ راست ووٹروں تک پہنچتی ہے جس سے انکی انتخابی مہموں کی لاگت کم ہوئی ہے۔ عرب سپرنگ، پاکستان میں پی ٹی آئی کی تحریک، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں حالیہ تبدیلیاں اور امریکہ میں ٹرمپ کی 2016 کی کامیابی سوشل میڈیا کی طاقت کی معروف مثالیں ہیں۔ عوام اب سڑکوں پر احتجاج کی نسبت سوشل میڈیا پر بیٹھ کر سیاسی جماعتوں کااحتساب کر تے ہیں اور یہ خبریں فوری پھیلتی ہیں تاہم جعلی خبروں ، پروپیگنڈا، پولرائزیشن اور الگورتھم کی وجہ سے یہ ”ایکو چیمبرز“ بھی بن گئے ہیں۔ لوگ صرف اپنی سوچ کی تصدیق والی پوسٹیں دیکھتے ہیں، جس سے معاشرتی تقسیم بڑھ اور انتخابی مداخلت، ٹرولنگ اور سائبر حملے عام ہو گئے ہیں، نتیجتاً آج کی سیاست اب ”توجہ“پر منحصر ہے۔ جو لیڈر سوشل میڈیا پر زیادہ فعال اور وائرل ہو، اس کی جیت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے ہمارے سماجی تعلقات، اقدار اور رویوں کو بھی تبدیل کر دیا ہے جبکہ معاشرتی طور پر یہ ”سوشل انجینئرنگ“ کا طاقتور آلہ بن گیا ہے جو رائے عامہ کو چند گھنٹوں میں بدل سکتا ہے۔سوشل میڈیا مکمل طور پر اچھا ہے نہ برا بلکہ یہ ایک طاقتور آلہ ہے۔ اس کا انحصار آپ پر ہے کہ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں؟ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹھوس قانون سازی نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا استعمال کرنیوالے آئے روز کسی نہ کسی سکینڈل یا قانونی پیچیدگی کا شکار نظر آتے ہیں تاہم اسکے زیادہ اثرات ہماری سیاست پر نظر آتے ہیں۔اس حوالے سے پیپلز انفارمیشن بیورو وسطی پنجاب نے صوبے کے دور دراز ضلع خوشاب میں سوشل میڈیا کی اھمیت اور اسکے ٹولز کی افادیت اور استعمال کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا جس کی میزبانی ضلعی صدر ملک علی سانول اعوان اور انکی ٹیم نے اسے ممکن کر دکھایا،صوبائی سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں پنجاب سیکرٹریٹ کے انچارج نسیم صابر چودھری ،ڈپٹی انچارج مدثر شاکر ،سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر بشارت علی اور یاسربخاری پر مشتمل ٹیم نے اس ایونٹ کو چار چاند لگا دئیے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس ورکشاپ کی کامیابی میں ضلعی جنرل سیکرٹری باسط راجڑ اور سیکرٹری اطلاعات غلام اکبر بھٹی ،مرزا کاشف اور کوارڈینٹرز ڈاکٹر نعیم صادق،حمد اللہ خان ،ملک اسد،یاسر نصر اللہ اور صہیب مشتاق نے اپنے ٹیم ورک سے ثابت کر دکھایا کہ عزم،ارادے اور حوصلے سے ناممکنات کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔پیپلز انفارمیشن بیورو وسطی پنجاب کے 7ڈویژنوں کے 26 اضلاع کے انفارمیشن سے وابستہ سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صاحبان اپنے ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ صدور کی قیادت میں میزبان ملک علی ساو¿ل اعوان کے ڈیرے پر سجائے گئے وسیع و عریض پنڈال میں پہنچے تاہم اس ورکشاپ میں جنرل سیکرٹری راولپنڈی ڈویژن خالد نواز بوبی کی قیادت میں آنیوالے وفد نے سب کے دل جیت لیے اور انکی ذاتی دلچسپی اور تنظیمی صلاحیتوں کا سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے سٹیج پر کھڑے ہو کر اعتراف کیا۔جلسہ گاہ میں ایس ایم ڈیز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بہت بڑے ترنگے سے سجائے گئے سٹیج پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے احمد رحمن گھمن، عبدالرزاق سلیمی،صہیب مشتاق ،رائے راشد،عثمان ستی،زینب قریشی،عمائمہ افتخار،میثم عباس،عبدالرشید اور دیگر نے بیانیہ سازی،ایکس،انسٹا،ٹک ٹاک،فیس بک،یو ٹیوب،واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا ٹولز کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی ہر بات پارٹی بیانیہ بن سکتی ہے،ہمیں عوامی مسائل اجاگر کر کے پارٹی بیانیہ بنانا ہو گا،2011میں ہمارے صرف 12 اور پنجاب میں 4 ٹویٹر اکاو¿نٹ تھے۔ زینب قریشی،احسن رضوی،عمائمہ افتخار جیسے لوگ آج سوشل میڈیا کی افادیت کے باعث پیپلز پارٹی کی پہچان بن چکے ہیں،مقررین ںےکہا کہ پارٹی کے کانٹینٹ رائٹرز بڑھانے،پنجاب میں ریپڈ رسپانس ٹیم قائم کرنے اورپیپلز پارٹی کی میڈیا کوارڈینیشن کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔2018 کا الیکشن 40 فیصد،2024 کا 80 فیصد سوشل میڈیا پر لڑا گیا جبکہ 2029 کا الیکشن 100فیصد سوشل میڈیا پر لڑا جائیگا،اج کے دور میں ٹویٹر سپیس اتنی ہی ضروری ہے جتنا رات کے کرنٹ افیئرز پروگرام۔پیپلزپارٹی ورکر بھٹو اور بی بی شہید کی تقاریر کو کانٹنٹ کے طور پر استعمال کریں۔ہمیں بی آئی ایس پی،اجرتوں میں اضافے اور پسماندہ طبقات کیلئے آواز اٹھانا ہو گی۔ہم پیر کو پارٹی نظریہ،منگل کو تحصیل مسائل،بدھ کو نوجوانوں کے مسائل،جمعرات کو پارٹی ہرفارمنس،جمعہ کو کسانوں اور مزدوروں کے مسائل،ہفتے کو پارٹی ایونٹس اور اتوار کو پارٹی بیانئے پر توجہ دیکر آگے بڑھ سکتے ہیں،ڈسپلن،رابطے اور تعاون کے بغیر ہم سوشل میڈیا کا کامیاب بیانیہ نہیں بنا سکتے،سیاست میں ٹویٹر ایساجنگی میدان ہے جہاں بیانیہ بنتا اور پھیلتا ہے ہمیں پیپلز پارٹی کا پیغام واضح اور اعلانیہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی قومی اثاثہ ہے اور رہے گی،چیئرمین بلاول بھٹو کی خارجہ کامیابیوں کے باعث آج پاکستان کو دنیا میں بلند مقام حاصل ہے۔سیاسی رابطہ کاری محنت اور کمٹمنٹ کے بغیر نہیں ہو سکتی،خود پر یقین کئے بغیر ہم پنجاب میں پیپلز پارٹی کو کامیاب نہیں کروا سکتے۔تقریب میں راولپنڈی ،ساہیوال اور گوجرانوالہ ڈویژن نے اگلی ورکشاپ کرا نے کی حامی بھر لی۔میزبان ملک علی ساو¿ل اعوان نے دور دراز سے انیوالے پارٹی شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جیالوں نے گرمی دیکھی نہ لمبا سفر،اہل خوشاب انکے شکر گزار ہیں۔دن 2بجے شروع ہونیوالی ورکشاپ کا اختتام رات 8بجے کے لگ بھگ ہوا جسکے بعد شرکائ کے اعزاز میں شاندار عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا۔