اسلام آباد: (بیورورپورٹ) سپر ٹیکس کانفاذ آئینی،وفاقی آئینی عدالت نے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 293 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا،عدالتی فیصلے کے مطابق سپر ٹیکس کو انکم ٹیکس سے الگ اور ایک علیحدہ ٹیکس رجیم کے طور پر تصور کیا جائےگا۔
فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکشن 4C کےخلاف دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ٹیکس کے نفاذ کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے،سیکشن 4C کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے سالوں پر ہوگا، عدالت نے قرار دیا اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دائرہ اختیار سے باہر تھی، سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کا متبادل نہیں بلکہ اس کے علاوہ ایک اضافی ٹیکس ہے جو مخصوص آمدنیوں پر لاگو ہوتا ہے، سیکشن 4C کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو علیحدہ ٹیکس نظام کے تحت آتی ہیںجبکہ سرمایہ میں اضافہ پر بھی ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔
مزید بر آں وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 7E سے متعلق مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا،تصوراتی آمدن پر ٹیکس کی آئینی حیثیت پر فریقین کے تفصیلی دلائل مکمل ہو گئے، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی،وفاق نے موقف اختیار کیا سیون ای غیر منقولہ جائیداد پر بالواسطہ ٹیکس ، دفعہ سیون ای پارلیمنٹ کے آئینی اختیار کے تحت جائز ٹیکس ہے،تصوراتی آمدن کا اصول ٹیکس قانون میں تسلیم شدہ قانونی فکشن قرار دیا گیا، آرٹیکل 25 کی مبینہ خلاف ورزی پر بھی عدالت میں دلائل پیش کیے گئے،عدالتی نظائر کی حیثیت پر بھی فریقین کی جانب سے دلائل دیئے گئے، بنچ کی تشکیل پر اعتراضات مسترد کئے جانے کا مو¿قف پیش کیا گیا،لاہور اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلوں کا بھی سماعت میں حوالہ دیا گیا، وفاقی آئینی عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر آئینی و مالیاتی کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
دریں اثناوفاقی آئینی عدالت میں اسلام آباد کے علاقے بری امام میں سی ڈی اے آپریشن رکوانے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی، عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے آپریشن روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا معاملے کو متعلقہ فورم پر ہی زیر سماعت رہنے دیا جائے،سماعت کے دوران وکیل علاقہ مکین نے موقف اختیار کیا اگر ہائیکورٹ سے فیصلہ آنے تک کارروائی جاری رہی تو تمام گھر مسمار ہو جائیں گے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے بغیر عدالت کی آبزرویشنز کے قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے،ہائیکورٹ کے جج کا مینڈیٹ کمیٹیاں بنانے کا نہیں ہوتا اور یہ سوال بھی اٹھایا ایک جج چیمبر میں کمیٹی کس قانون کے تحت بنا سکتا ہے،عدالت نے قرار دیااگر سی ڈی اے پہلے ہی کمیٹی بنا چکا ہے تو اس میں عدالتی مداخلت کا جواز محدود ہے،وکیل کی جانب سے ہائیکورٹ کو جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کی استدعا بھی کی گئی ،عدالت نے موقف اختیار کیا مقدمہ متعلقہ قانونی فورم پر ہی چلایا جائے بعد ازاں عدالتی آبزرویشنز کے بعد بری امام کے مکینوں کی جانب سے دائر درخواست واپس لے لی گئی۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے نفاذ کو آئینی قرار دےدیا



















