اسلام آباد:(بیورورپورٹ)چیئرمین نیب نے کہا ہے کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ متعصبانہ و نامناسب ،ملک ریاض کیخلاف 900 ارب کے زائد کیسز کی تحقیقات مکمل ہو چکیں۔
سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے کہا میرا آئی ایم ایف سے اعتماد اٹھ گیا، فیصلہ کرلیا رپورٹ کو سنجیدہ نہ لوں، آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں نیب کو سراہالیکن میرے ملک کے ساتھ اچھا نہیں ، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر لوگ اعتماد نہیں کرتے،آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پر مشتمل ٹرائیکا پسند نہ ہونےوالے ملک کےخلاف ماحول بناتے ہیں۔
چیئرمین نیب نے کہا ملک ریاض،علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری کیے، راولپنڈی 2 ،کراچی میں ایک ریفرنس زیر سماعت ہے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے پوچھیں فنڈنگ کہاں سے آتی ہے،پاکستان میں صرف 3 بندے کام کر رہے ،800 یا 900 بندوں کا سیمپل لےکر پورے ملک کے امیج پر سوال اٹھا دیتے ہیں،دنیا میں کسی اور اینٹی کرپشن ادارے نے نیب کے برابر ریکوری نہیں کی۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے کہا سندھ سولر سکیم سکینڈل کے تمام ثبوت حاصل کر لیے ،آئندہ سہ ماہی مجرموں کی گرفتاری سمیت کیس کو منطقی انجام تک پہنچا دیں گے،تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی 3 سے 4 لاکھ ایکڑ زمین بازیاب کرانے کا پروگرام ہے، 1972 سے اب تک سکیم میں 15 کھرب کی زمین پر ناجائز قبضہ ہوا، 30 سالہ لیز منسوخ کر کے سندھ کو 47 ہزار ایکڑ سے زائد زمین واپس دلائی،مالیت 24 کھرب سے زائد ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر غیر قانونی گولڈ مائننگ رکوا دی ،حکومت کو مائننگ کی انٹرنیشنل ٹینڈرنگ کا مشورہ دیا،غیر قانونی 1900 مائننگ یونٹس کا ہفتہ وار مشینری کرایہ 10 سے 12 ارب تھا،اندازہ لگایا جا سکتا ہے سونے کی مالیت کیا ہوگی،ملنے والا سونا پاکستان کا نصف قرضہ اتار سکتا ہے۔
دریں اثنا قومی احتساب بیورو (نیب)نے 2026کی پہلی سہ ماہی کے دوران ریکارڈ کارکردگی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا مجموعی طور پر 2.962 ٹریلین روپے کی ریکوری کی گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 33گنا زیادہ ہے۔
نیب کے مطابق کراچی ،سکھر ریجنز نے 2.89 ٹریلین روپے مالیت کی 54 ہزار 387 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی،23 ارب 33 کروڑ روپے مالیت کی 4 ہزار 34 ایکڑ سرکاری زمین برآمد کی گئی،نیب بلوچستان نے بھی 36 ارب 54 کروڑ روپے مالیت کی 51 ہزار 577 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی،عوام سے دھوکہ دہی مقدمات میں 6 ہزار 475 متاثرین کو ایک ارب 78 کروڑ روپے واپس کیے گئے، پلی بارگین اور جرمانوں کی مد میں 11 ارب 8 کروڑ 50 لاکھ روپے کی براہ راست ریکوری ہوئی۔
کرپشن پر رپورٹ متعصبانہ ،IMFکوجگہ دی اب بیڈ روم تک آرہاہے،چیئرمین نیب



















