لاہور (خصوصی رپورٹ: نعیم جاوید) وفاقی بجٹ 2026-27ءکی آمد سے قبل لاہور کی بڑی تجارتی منڈیوں شاہ عالم مارکیٹ، ہال روڈ، انارکلی، اچھرہ، اعظم کلاتھ مارکیٹ اور لبرٹی مارکیٹ میں تاجروں اور خریداروں کے درمیان آئندہ قیمتوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نئے ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد کرتی ہے تو اشیائے ضروریہ، الیکٹرانکس اور گارمنٹس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ بعض درآمدی اشیاءپر ڈیوٹیوں میں ممکنہ کمی سے کچھ شعبوں میں محدود ریلیف بھی مل سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے مالی سال میں اضافی محصولات حاصل کرنے کیلئے تقریباً 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں جبکہ بعض درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیںشاہ عالم مارکیٹ کے تاجر رہنما عمر جاوےد بٹ اور حاجی حنےف نے بتایا کہ بجٹ کے بعد سب سے زیادہ اثر روزمرہ استعمال کی اشیاءپر پڑیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیلز ٹیکس یا دیگر بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوا تو خوردنی تیل، چینی، چاول، چائے اور دیگر ضروری اشیاءکی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست بوجھ عام آدمی پر پڑے گاہال روڈ کے الیکٹرانکس ڈیلر سلیم نے کہا کہ درآمدی ڈیوٹیوں میں مجوزہ کمی سے موبائل فون، کمپیوٹر آلات، گھریلو الیکٹرانکس اور دیگر درآمدی مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی آسکتی ہے تاہم اگر روپے کی قدر میں اتار چڑھاو¿ یا نئے ٹیکس نافذ ہوئے تو یہ ریلیف محدود رہ جائیگا۔ اطلاعات کے مطابق حکومت ہزاروں درآمدی اشیاء پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں کمی پر غور کر رہی ہے اعظم کلاتھ مارکیٹ کے کپڑا تاجرحاجی طاہر نوےدنے بتایا کہ گارمنٹس سیکٹر پہلے ہی پیداواری لاگت، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے سے متاثر ہے۔ ان کے مطابق اگر خام مال پر ٹیکس برقرار رہے یا توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو ملبوسات مزید مہنگے ہوں گے۔ تاہم برآمدی صنعت کو مراعات ملنے کی صورت میں مقامی مارکیٹ کو بھی کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لبرٹی مارکیٹ میں خریداری کرنے والی شہری عائشہ عمران نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران لباس، جوتوں اور گھریلو سامان کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ سے عوام کو ریلیف ملنا چاہیے کیونکہ تنخواہوں اور آمدن میں اضافہ قیمتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے ایک اور شہری محمد عثمان کا کہنا تھا کہ ہر بجٹ کے بعد مہنگائی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہیے لیکن پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے حکومت نے 8.2 فیصد افراطِ زر کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم نئے ٹیکس اقدامات، پٹرولیم لیوی کے ممکنہ اضافے اور عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کی صورتحال قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے لاہور کی تجارتی برادری کا مجموعی مو¿قف ہے کہ اگر حکومت درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی، کاروباری لاگت میں کمی اور ٹیکس نظام میں آسانیاں فراہم کرے تو الیکٹرانکس اور بعض گارمنٹس مصنوعات سستی ہو سکتی ہیں، لیکن نئے ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بدستور موجود ہیں۔ شہریوں کی نظریں اب 10 جون کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ پر لگی ہوئی ہیں، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آنے والے مالی سال میں مہنگائی بڑھے گی یا عوام کو کسی حد تک ریلیف ملے گا۔
وفاقی بجٹ 2026-27ءکے بعد مہنگائی یا ریلیف؟ تاجر اور شہری پریشان


















