پاکستان ہی مرکزی ثالث،ناممکن جنگ یا خراب ڈیل،ٹرمپ کو ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، ایران

تہران،اسلام آباد:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ایران کی بذریعہ پاکستان امریکہ کو بھیجے گئے تازہ امن منصوبے کی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیا گیا منصوبہ 3 مراحل پر مشتمل ،مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کا قیام ہے، 30 دن کے اندر جنگ بندی کو مکمل امن میں تبدیل ،عدم جارحیت کا عہد،اسرائیل کو بھی شامل کرنے کی بات شامل ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا امکان ختم کیا جا سکے۔

منصوبے کے مطابق آبنائے ہرمز بتدریج کھولنے ،ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکا بندی ختم ،ایران کو زیرو سٹوریج اصول کے تحت 3.6 فیصد تک یورینیم افزودگی بحال کرنے کی اجازت ،حملے نہ کرنے کی شرط بھی منصوبے کاحصہ ہے،سمندر سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام ایران خود کرے گا،ایرانی جوہری ڈھانچے کو ختم یا تنصیبات کو تباہ کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا،پابندیوں میں نرمی کے تحت منجمد فنڈز کی مرحلہ وار بحالی شامل ہے،ایران نے عرب ممالک کےساتھ سٹریٹجک مکالمے کے آغاز ،پورے مشرق وسطیٰ پر مشتمل مشترکہ سکیورٹی نظام تشکیل د ینے کی تجویز بھی دےدی۔

دریں اثنا پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہاپاکستان مرکزی ثالث، مذاکرات میں پیشرفت امریکی روئیے میں تبدیلی سے مشروط ہے،ایران اپنے مفادات کے تحفظ کےلئے شفاف رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، مخالف کو جنگ بندی یا مذاکرات میں زیادتی نہیں کرنے دینگے،مذاکرات کی تجویز کا مقصد صیہونی جارحیت کا خاتمہ ہے۔

رضا امیری مقدم نے کہا ایران قومی مفادات ،دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جنگ کے خاتمے کےلئے نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچادیا ،موجودہ عمل میں پاکستان مرکزی ثالث ،کوششیں قابل قدر ہیں،ثالث میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

پاسداران انقلاب نے کہا صدر ٹرمپ کو ناممکن جنگ یا خراب ڈیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا،امریکہ،اسرائیلی جارحیت کے مستقل خاتمے کےلئے جامع تجویزپیش کردی ،امریکہ معاملے سے نکلنے کےلئے فیس سیونگ چاہتاہے۔

اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا ایران نے تجویز کے ذریعے معاملہ دوبارہ ٹرمپ کے سامنے رکھ دیا ،پینٹاگون کو ناکہ بندی پر ڈیڈ لائن بھی دےدی گئی،چین، روس اور یورپ کا واشنگٹن کےخلاف لہجہ بدل رہاہے، امریکہ کے فیصلے کرنے کی گنجائش محدود ہوگئی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا امریکی صدر نے ایرانی بحری جہازوں کی غیرقانونی ضبطی کو کھلے عام قزاقی قرار دیتے ہوئے فخر سے کہا قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں،ٹرمپ کے بیان کو محض زبانی لغزش نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری قوانین کےخلاف امریکی اقدامات کی مجرمانہ نوعیت کا براہ راست و سنگین اعتراف ہے،عالمی برادری، اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور یواین سیکرٹری جنرل کھلی اور سنگین خلاف ورزیوں کو کسی بھی صورت معمول کا حصہ بننے سے روکیں۔