لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا ہے کہ کاروبار صرف منافع کمانے کا نام نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ہم اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں گرین کلچر کے فروغ پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور پاکستانی صنعت و تجارت کو بھی ماحول دوست کاروباری ماڈلز اپنانا ہوں گے۔وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ”بلڈنگ گرین کارپوریٹ کلچر فار بزنس گروتھ“سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر نائب صدر خرم لودھی، سابق سینئر نائب صدر علی حسام اصغر، سابق نائب صدر حارث عتیق، ایگزیکٹو کمیٹی ممبر حافظ سجاد بھی موجود تھے۔سیمینار سے کنونیئر سٹینڈنگ کمیٹی برائے کارپوریٹ ریلیشنز ملک عامر سلام، چیف ایگزیکٹو آفیسر اے ای ایس پی زاہد ایس ملک، جنرل منیجر کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی انٹرلوپ فوز الاعظیم، نیشنل انجینئرنگ منیجر کوکا کولا محمد آصف اور لمز کے فیکلٹی ممبر محمد اویس نے بھی خطاب کیا۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ صنعت اور کاروبار کو گرین کلچر کے ساتھ فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے کاروبار کو گرین مینجمنٹ کے اصولوں کے تحت آگے بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں ٹن کچرے سے رینیوایبل انرجی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں جبکہ ویلیو ایڈیشن اور ری سائیکلنگ کے فروغ سے نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ نئی معاشی سرگرمیاں بھی جنم لیں گی۔زاہد ایس ملک نے کہا کہ پری انڈسٹریل دور کے مقابلے میں آج دنیا میں کاربن اور آکسیجن کے تناسب میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے اور صدیوں سے انسانی سرگرمیاں کاربن کے اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کے حوالے سے بتایا کہ دنیا میں تقریباً 40 ملین افراد کو سانس کی بیماریوں کا سامنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم دولت کے ساتھ ساتھ ایک صاف اور گرین ماحول بھی اپنی اگلی نسلوں کیلئے چھوڑ کر جائیں۔ محمد آصف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مینوفیکچرنگ پراسیسز اور سپلائی چین کے ہر مرحلے کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ انسانی سرگرمیوں کا ہر حصہ کاربن فٹ پرنٹ میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مختلف ممالک کاربن اخراج کم کرنے کیلئے واضح حکمت عملیاں اپنا رہے ہیں جبکہ درخت اور قدرتی ایکو سسٹم کاربن کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انڈسٹری کو اپنی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کا باقاعدہ جائزہ لینا ہوگا۔فوز الاعظیم نے کہا کہ عالمی سطح پر مصنوعات کے کاربن امیشنز کی مقدار کو سمجھنا اہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مصنوعات کی مسابقت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ کتنی کم کاربن اخراج کے ساتھ تیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا چیلنج ڈیٹا اور موثر میکانزم کی کمی ہے جس کے بغیر کاربن امیشنز کی درست پیمائش ممکن نہیں۔محمد اویس نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی صرف ماحول کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے براہ راست اثرات معیشت، صحت اور انسانی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، اسلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کیے گئے فیصلوں کے اثرات آئندہ کئی دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے، لہٰذا کاروباری اداروں اور معاشرے کو مشترکہ طور پر مثبت اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔سیمینار میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پائیدار کاروباری ترقی کیلئے گرین کارپوریٹ کلچر، کاربن مینجمنٹ، ری سائیکلنگ، توانائی کے متبادل ذرائع اور ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
گرین کارپوریٹ کلچر فروغ کے بغیر پائیدار بزنس گروتھ ممکن نہیں: صدر لاہور چیمبر


















