لاہور (کامرس رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب کے ایڈوائزر برائے سپیشل انیشیٹوز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس علی مصطفی ڈار نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت لاک ڈاون کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کو جلد اچھی خبر سنائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اگلے ماہ ”AI Vision 2029“ کا اعلان کریں گی جس کے تحت پنجاب حکومت کا یہ ہدف ہے کہ اگلے تین سال میں پنجاب کو جنوبی ایشیاءکا سب سے پہلا اے آئی فعال صوبہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار لاہور چیمبر کے دورے کے موقع پر کیا۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے انکا استقبال کیا جبکہ اس موقع پر سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدور میاں انجم نثار، محمد علی میاں اور طاہر جاوید ملک بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ سابق سینئر نائب صدر علی حسام اصغر، سابق نائب صدر حارث عتیق اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے اور معیشت کی ترقی کا راستہ اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں بلکہ انکیوبیشن سینٹرز کے قیام سے اس شعبے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور تقریباً ہر شعبہ اے آئی سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند برسوں میں اے آئی کی عالمی مارکیٹ ٹریلینز ڈالرز تک پہنچ جائے گی، لہٰذا پاکستان کو اس میں اپنا حصہ ضرور حاصل کرنا ہوگا۔ فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ اے آئی کو صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے معیشت، برآمدات اور گورننس کے نظام میں بھی استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کے پیش نظر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے اے آئی کے فروغ کے لیے آسان فنانسنگ اور خصوصی پروگرامز متعارف کرانے پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، لاک ڈاون کے اثرات اور مہنگائی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ای وی (الیکٹرک وہیکلز) کے فروغ اور سرکاری سطح پر اس کے استعمال کی بھی حمایت کی۔ اجلاس میں ایڈوائزر علی مصطفی ڈار نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب جلد ”AI Vision 2029“ پیش کریں گی جس کا مقصد پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اے آئی انیبلڈ صوبہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ تین برسوں میں پنجاب کی معیشت میں 5 سے 6 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ شہری سہولتوں میں بہتری کیلئے ”آفس آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس“قائم کیا گیا ہے اور ڈیٹا کے نظام میں نمایاں پیشرفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشیو اکنامک رجسٹری کا آغاز کیا جا چکا ہے جبکہ فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار کے فروغ کیلئے بھی اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں۔علی مصطفی ڈار نے کہا کہ پنجاب دنیا کا سب سے بڑا اے آئی بیسڈ سروس ڈیلیوری یونٹ بنانے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بزنس کمیونٹی کو جلد لاک ڈاون اور کاروباری حالات میں بہتری سے متعلق خوشخبری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب نے وزیر اعلی شہباز شریف کے دور میں ڈیٹا پر بہت کام کیا تھا جبکہ اب وزیر اعلی مریم نواز نے بھی اس پر تیزی سے کام کیا ہے اور پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری شروع کی، اس وقت پنجاب کے پاس ایک بہت مضبوط ڈیٹا موجود ہے جس سے سروسز اور سہولیات کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی باتا کہ جلد ہی پنجاب میں دنیا کا سب سے بڑا اے آئی فعال ڈلیوری یونٹ قائم کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انکیوبیٹر ایکسیلیریٹر پراگرام کے تحت دنیا کے بڑے ڈیٹا سینٹرز اور آئی ٹی پلئیرز ملک میں آرہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈارجلد لاہور چیمبر کا دورہ کریں گے، جس سے حکومت اور بزنس کمیونٹی کے روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
حکومت لاک ڈاون کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کو جلد اچھی خبر سنائے گی: علی ڈار



















