واشنگٹن، تہران، ریاض (بیورو رپورٹ+ مشرق نیوز) ایران نے کہا ہے پاکستان کی کوششوں سے امریکہ کےساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز کے واقعات واضح کرتے ہیں کسی سیاسی بحران کا فوجی حل ممکن نہیں، امریکہ کسی کے کہنے پر دوبارہ دلدل میں نہ پھنسے، خطے کی صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنا چاہیے، پراجیکٹ فریڈم دراصل پراجیکٹ ڈیڈ لاک ہے، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے امریکہ اور اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، امریکہ کی شرارت ختم ہو جائےگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال تیزی سے مستحکم ہو رہی ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی سے بحری سلامتی کو خطرے میں ڈالا، توانائی اور شپنگ کے راستوں کو جان بوجھ کر متاثر کیا گیا، مخالف قوتوں کے اقدامات کے باوجود برائی کمزور پڑے گی،امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے، ایران کو ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،ایران کےخلاف جنگ کی بحالی کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے،واشنگٹن میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں ایران پر سمندری جارحیت کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے امریکہ خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا تاہم جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا، ایران نے آبنائے ہرمز میں واضح جارحیت کا مظاہرہ کیا اور اس کے 6 بحری جہازوں نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تاہم امریکی نیوی نے واپس مڑنے پر مجبور کر دیا’ ’پراجیکٹ فریڈم“ عارضی اور دفاعی مشن ہے، مقصد عالمی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے،امریکہ کا کسی اور ملک کےخلاف کارروائی کا ارادہ نہیں لیکن ایرانی حملوں کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائےگا، جنرل ڈین کین نے کہا جنگ بندی کے بعد ایران تجارتی جہازوں پر 9 بار فائرنگ کر چکا ،2 جہازوں پر قبضہ بھی کیا گیا، ایرانی فورسز چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز کے ذریعے کارروائیاں کر رہی ہیں تاہم امریکہ اور اتحادی ممالک خطرات سے نمٹ رہے ہیں،سعودی عرب نے ایران کے معاملے پر پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کر دیا،سعودی وزارت خارجہ نے خطے میں جاری موجودہ عسکری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار، فریقین سے کشیدگی کم کرنے، مزید تصادم سے گریز اور ضبط نفس اختیار کرنے کی اپیل کی ہے،سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا سعودی عرب پاکستانی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ ایسا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے جو خطے کو مزید کشیدگی، عدم استحکام اور سلامتی کو لاحق خطرات سے بچا سکے کیونکہ صورتحال خطے اور دنیا کے مفاد میں نہیں ، آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی بحال ہونا انتہائی اہم ہے، صورتحال کو اپنی قدرتی حالت میں واپس لایا جانا چاہیے جیسا کہ یہ 28 فروری سے قبل تھی تاکہ جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے: ایران، آبنائے ہرمز پر قبضہ نہیں کر نے دینگے: امریکہ



















