اسلا م آباد (بیورو رپورٹ) گیس،بجلی بحران شدت اختیار کرگیا، 5 ہزار میگاواٹ پلانٹس سے آﺅٹ ہوگئے،ذرائع سوئی ناردرن کے مطابق آر ایل این جی کے موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، پاور اور کھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آگئی، گھریلو صارفین کو بھی سپلائی میں کمی کر دی گئی ہے، گیس کا شارٹ فال600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر گیا،دوسری جانب سوئی گیس حکام نے کہا کھانے کے تینوں اوقات میں پوری گیس فراہم کی جا رہی ہے،ادھر ترجمان پاور ڈویژن نے کہا ایل این جی کی عدم دستیابی سے 5 ہزار میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہورہی،تربیلاڈیم سے پانی کے اخراج میں رات کے وقت اضافے سے پن بجلی پیداوار میں اضافہ ہوا،کل رات پیک ٹائم میں پن بجلی کی پیداوار 6 ہزارمیگاواٹ رہی، ملک کی کل پن بجلی کی استعداد 11500میگاواٹ ہے،کچھ پاورپلانٹس کومقامی گیس فراہمی سے بجلی پیداوار میں مزید بہتری آئی، 100میگاواٹ سینٹر لانے میں آسانی ہوئی جبکہ ملک کے جنوب سے کل 500 میگاواٹ کی ترسیل ممکن ہوئی،ترجمان کے مطابق بجلی تقسیم کارکمپنیوں نے رات کے پیک اوقات میں ایک گھنٹے سے 2گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی، پن بجلی پیداوار میں اضافے سے ڈیمانڈ کے باوجود لوڈ مینجمنٹ 2 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوئی،ملک میں زیادہ نقصانات والےفیڈرز پر اکنامک مینجمنٹ پالیسی کے تحت کی جارہی ہے، اکنامک لوڈ مینجمنٹ کا پیک آورز میں لوڈ مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں، ایل این جی کی عدم دستیابی سے 5 ہزار میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہورہی، ایل این جی کی دستیابی اور پانی کے اخراج میں اضافے سے رات کے اوقات کا شارٹ فال ختم ہوجائے گا۔
گیس،بجلی بحران شدت اختیار کرگیا، 5 ہزار میگاواٹ پلانٹس سے آوٹ


















