لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات ڈاکٹر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مارکہ حق کی کامیابی کے بعد اب پاکستان کو مارکہ معیشت جیتنا ہوگا کیونکہ مضبوط دفاع کو مضبوط معیشت کے بغیر دیرپا نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ دس برسوں میں برآمدات، صنعتی ترقی اور معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے تو پاکستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی اور دفاعی کامیابیوں نے دنیا میں ملک کا وقار بلند کیا ہے جبکہ اب ضروری ہے کہ اسی جذبے کے ساتھ معاشی میدان میں بھی کامیابی حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کا واحد راستہ ہیں اور حکومت غیر ضروری قوانین، سرخ فیتے اور کاروباری رکاوٹیں ختم کرکے برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے ان کا خیر مقدم کیا۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدر محمد علی میاں، سابق نائب صدر شاہد نذیر چوہدری، پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین وقاص اسلم، فردوس نثار، احد امین ملک، علی عمران، عبدالمجید، عرفان قریشی، رانا شعبان اختر، سید حسن رضا، عمر سرفراز، آمنہ رندھاوا، کرامت علی اعوان، رانا نثار، احتشام الحق اور محسن بشیر بھی موجود تھے۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے خطاب میں حکومت پاکستان کے موثر سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حالیہ عالمی اور علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان نے امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کیلئے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوا۔ انہوں نے وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے ”اڑان پاکستان 2024ءتا 2029ئ“پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت برآمدات، ڈیجیٹل معیشت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، ماحولیات اور سماجی بہتری سے متعلق اہداف خوش آئند ہیں۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ مارکہ حق میں کامیابی نے پوری قوم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ اب معیشت کو مضبوط بنایا جائے کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ کمزور معیشتیں طاقتور دفاع کے باوجود قائم نہیں رہ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ ملکر برآمدات کے فروغ، صنعتی ترقی اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ 2035ءتک 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف پاکستان کیلئے اتنا ہی اہم ہے جتنا ایٹمی صلاحیت کا حصول تھا۔فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ صرف دس ماہ میں تقریباً 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اس لئے ملک کو فوری طور پر مضبوط برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی، صنعتی پالیسیوں اور مراعات کو برآمدی شعبوں کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مو¿ثر مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے ویلیو ایڈیشن، برآمدی تنوع اور عالمی سپلائی چینز میں شمولیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مہنگی بجلی، بلند شرح سود، متعدد ٹیکسز اور پیچیدہ قوانین صنعتوں کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں جبکہ موجودہ علاقائی صورتحال میں سپلائی چین مسائل اور غیر یقینی صورتحال کے باعث اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ صدر لاہور چیمبر نے عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر حکومت کی توجہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی فنڈز کو ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے جو صنعت، برآمدات، لاجسٹکس اور پیداواری صلاحیت میں براہِ راست بہتری لائیں۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مو¿ثر نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر احسن اقبال نے سی پیک کے آغاز سے ہی اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کاوشوں سے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون مضبوط ہوا اور توانائی، بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز، زراعت، آئی ٹی، ٹیکنالوجی منتقلی اور کاروباری شراکت داری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاہم مقامی کاروباری برادری کو مشترکہ منصوبوں میں فعال کردار دیا جانا ضروری ہے۔فہیم الرحمٰن سہگل نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے خصوصی صنعتی زونز کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے زونز میں مشترکہ سہولیات، گودام، یوٹیلیٹیز، ون ونڈو آپریشن اور فضلہ صاف کرنے کے جدید نظام جیسی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی لاگت کم ہو اور ان کی مسابقت بہتر بن سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کا شعبہ تیزی سے ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لئے منصوبہ بندی میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، آئی ٹی برآمدات، فری لانسنگ اور اختراعی نظام کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ نوجوان افرادی قوت زیادہ زرمبادلہ کما سکے۔ انہوں نے مہارتوں کی ترقی، صنعت و تعلیمی اداروں کے روابط اور بین الاقوامی زبانوں کے پروگراموں کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ صدر لاہور چیمبر نے لاجسٹکس اور تجارتی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، قومی شپنگ صلاحیت بڑھانے اور گوادر میں فضائی رابطے بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سے گوادر فضائی رابطے محدود ہونے کی وجہ سے پنجاب کے سرمایہ کار وہاں جانے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر، جو 48 ہزار سے زائد ممبران کی نمائندگی کرتا ہے، قومی معاشی منصوبہ بندی اور پالیسی اصلاحات میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے پلاننگ کمیشن اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان مستقل مشاورت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور چیمبر جون 2026ئ میں“لاہور چیمبر فری لانسنگ ایوارڈز”کا انعقاد کر رہا ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر احسن اقبال کو بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو برآمدات بڑھانے کیلئے مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن، بہتر پیکیجنگ، مارکیٹنگ، برانڈنگ اور عالمی معیار کی سرٹیفکیشن پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے مگر ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح پاکستانی آم، کٹلری، پنکھا سازی، دستکاری اور دیگر مصنوعات میں عالمی سطح پر بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 2.8 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے مگر پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر ہے، اسلئے چینی مارکیٹ میں سنجیدہ اور منظم انداز میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ ایک ہی کشتی میں سوار ہیں، حکومت کا کام سہولت فراہم کرنا جبکہ سرمایہ کاری اور معیشت کو آگے بڑھانا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس بمقابلہ مجموعی قومی پیداوار تناسب صرف 10.5 فیصد ہے جبکہ کامیاب ممالک میں یہ شرح 15 سے 16 فیصد تک ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوگا اور ٹیکس چوری کا خاتمہ نہیں ہوگا،ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ بڑھتا رہے گا۔ انہوں نے حکومت اور کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ مل کر معیشت کو مستحکم بنانے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کریں۔
معرکہ حق کے بعد اب معرکہ معیشت جیتنا ہوگا: احسن اقبال



















