سابق صوبائی خطیب اور ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد کیخلاف انکوائری کے احکامات

لاہور (قاضی ندیم اقبال) 81 لاکھ 62 ہزار روپے کی ریکوری کے حوالے سے محکمہ اوقاف پنجاب کا بڑا اقدام۔ سابق صوبائی خطیب مفتی اسحاق ساقی(ریٹائرڈ) کے خلاف پنجاب سول سرونٹس رولز 1967 کی شق(a)1.8 کے تحت جبکہ سابق ایڈمنسٹریٹر لاہور (ویسٹ)/حال ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد لاہور اور کاشف ندیم سابق منیجر سرکل دو لاہور/حال تعینات منیجر اوقاف جھنگ سرکل کے خلاف ہیڈا ایکٹر2006 کی دفعہ 3 کے تحت انکوائری کے احکامات جاری کر دئیے۔نااہلی ، مس کنڈکٹ ، کرپشن، اور محکمہ کو مالی نقصان پہنچانے کے الزامات کی بابت ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف نبیلہ جاوید کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 60یوم میں اپنی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کر دی جبکہ اسرار احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر مذہبی امور پنجاب کو پیڈا ایکٹ 2006کی دفعہ (c)(1)9 کے تحت محکمانہ پیروکار مقرر کر دیا۔سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کی ہدایت پرعرفان محمود اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن۔دوئم (اوقاف) نے باضابطہ طور پراس ضمن میں دو الگ الگ احکامات جاری کر دئیے گئے۔ دونوں دستاویزات کی کاپی ”مشرق“ نے حاصل کر لی۔ سابق صوبائی خطیب مفتی محمد اسحاق ساقی(ریٹائرڈ) کو جاری احکام میں قرار دیا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ بسلسلہ یونٹ نمبر54جامع مسجدنیلا گنبد لاہور کی روشنی میں آپ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ جامع مسجد نیلا گنبد لاہور سے ملحقہ رہائشی یونٹ جو کہ مسجد کے امام خطیب کیلئے مختص رہائش تھی اور پرائیویٹ فرد کو الاٹ نہ ہو سکتی تھی ، لیکن آپ نے حقائق مخفی رکھتے ہوئے اسے اپنے بیٹے مسمی شاہد اسحاق کے نام الاٹمنٹ کرووائی ، جو کہ غیر قانونی تھا اور مزید یہ کہ حکومت پنجاب کی جانب سے نیلا گنبد پراجیکٹ کے تحت کرایہ داران کو ادا شدہ حالیہ معاوضہ کی ادائیگی کی بابت ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے یونٹ ہذا کے لئے متعین کردہ معاوضہ 81لاکھ62ہزار روپے مسمی شاہد اسحاق ولد مفتی اسحاق ساقی (ریٹائرڈ) صوبائی خطیب کو ادا کیا گیا۔ کس کا وہ مجاز نہ تھا، کیونکہ سرکاری رہائش ہونے کے باعث اس معاوضہ کی ادائیگی پرائیویٹ فرد کو نہ ہو سکتی تھی۔بلکہ یہ ادائیگی خزانہ اوقاف میں جمع ہونا تھی۔اس طرح آپ کی جانب سے قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غلط الاٹمنٹ کروانا آپ کی ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے ، جس وجہ سے محکمہ کو مالی نقصان پہنچایا گیا۔آپ کا یہ فعل مس کنڈکٹ، کرپشن، ملی بھگت کے زمرے میں آتا ہے۔دریں اثناءسابق ایڈمنسٹریٹر لاہور (ویسٹ)/حال ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد لاہور اور کاشف ندیم سابق منیجر سرکل دو لاہور/حال تعینات منیجر اوقاف جھنگ سرکل کو جاری ہونے والے دوسرے احکامات میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ یونٹ نمبر54جامع مسجدنیلا گنبد لاہور کے معاوضہ کی ادائیگی پرائیویٹ فرد کو نہ ہو سکتی تھی۔بلکہ یہ ادائیگی خزانہ اوقاف میں جمع ہونا تھی۔ اس طرح آپ کی جانب سے قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غلط الاٹمنٹ کی سفارشات کرنا آپ کی ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے ، جس کے سبب محکمہ کو مالی نقصان پہنچایا گیا۔دونوں جاری کئے گئے احکامات میں الزام علیہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنا دفاع احکام ہذا کی وصولی کے سات یوم کے انکوائری آفیسر کو پیش کریں اگر وہ وقت مقررہ پر اپنا تحریری دفاع پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں تو یہ متصور ہو گا کہ وہ اپنے دفاع کے لئے دی گئی رعایت کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں اور اپنے خلاف عائد کردہ الزام کو درست تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم اگر الزام علیہان اپنے خلاف عائد کردہ الزام کے ضمن میں متعلقہ ریکارڈ کا سہارا لینا چاہیں ےو وہ احکام انکوئری کی وصولی کے ساتھ یوم کے اندر زیر دستخطی یا محکمانہ پیروکار سے پیشگی انتظامات کے تحت رابطہ کر سکتے ہیں۔متعلقہ احکامات کی کاپی ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، پائیویٹ سیکرٹری برائے سیکرٹری اوقاف، اسسٹنٹ دائریکٹر ایڈمن اول ، ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن،ڈائریکٹر فنانس،ڈائریکٹر اسٹیٹ، اور ڈائریکٹر پراجیکٹس کے پی اےز، ایڈمنسٹریٹر اوقاف(ویسٹ ) لاہور زون، اسرار احمد محکمانہ پیروکار، اور مفتی محمد اسحاق ساقی (ریٹائرڈ) صوبائی خطیب کو ان کے صاحبزادے زاہد اسحاق موذن /خادم حال مدرس (OPS) جامعہ عربیہ رضیمیہ نیلا گنبد لاہور کی وساطت سے ارسال کی گئی ہے۔