لاہور (میاں ذیشان) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران کی نااہلی اور غفلت کے باعث گزشتہ کئی سالوں سے لاہور ڈویژن ماسٹر پلان 2050 تاحال نافذ العمل نہ ہو سکا۔صوبائی دارالحکومت میں شہری ترقی اور منصوبہ بندی کے بیشتر امور بدستور ماسٹر پلان 2016 کے تحت سرانجام دئیے جا رہے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مکمل ہونے والے متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے بھی نئے ماسٹر پلان کا حصہ نہ بن سکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق لاہور شہر میں ہاﺅسنگ سکیموں کی منظوری، اراضی کی تقسیم، شہری توسیع اور انفراسٹرکچر کی ترقی سمیت اہم معاملات پرانے ماسٹر پلان کے مطابق چلائے جا رہے ہیں جسے ماہرین پہلے ہی فرسودہ قرار دے چکے ہیں، اسی تناظر میں شہر اور مضافاتی علاقوں میں سینکڑوں ہاﺅسنگ سوسائٹیز کی منظوری اور پلاٹنگ بھی 2016 کے قواعد و ضوابط کے تحت کی جا رہی ہے جس سے جدید شہری ضروریات اور تیزی سے بڑھتی آبادی کے تقاضوں میں واضح خلا پیدا ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 2022 میں تیار ہونے والا ماسٹر پلان 2050 مختلف قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی کارروائیوں کے باعث تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں گزشتہ پانچ سے چھ برس کے دوران لاہور اور اس کے گردونواح میں ہونے والی وسیع پیمانے پر شہری ترقی، نئی آبادیاں، انفراسٹرکچر منصوبے اور نجی و سرکاری ہاﺅسنگ سکیمیں بھی اس منصوبے میں شامل نہ ہو سکیں۔ جبکہ راوی ریور فرنٹ شہری ترقیاتی منصوبہ سمیت دیگر اہم پراجیکٹس بھی نئے ماسٹر پلان کے مکمل نفاذ کے بغیر جزوی یا الگ بنیادوں پر آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے مجموعی شہری منصوبہ بندی میں عدم ہم آہنگی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ پرانے ماسٹر پلان کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیاں مستقبل میں قانونی، ماحولیاتی اور انتظامی مسائل کو جنم دے سکتی ہیں کیونکہ شہر کی موجودہ ضروریات، آبادی کا دباﺅاور زمینی حقائق 2016 کے فریم ورک سے کہیں آگے نکل چکے ہیں، جبکہ نئے ماسٹر پلان کی تاخیر کے باعث لاہور ڈویژن میں مربوط اور پائیدار ترقی کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) لاہور ماسٹر پلان 2050 کے مسودہ کی تیاری اور نفاذ میں سست روی کے حوالے سے موقف جاننے کیلئے چیف میٹروپولیٹن پلاننگ فیصل قریشی سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن بار ہا رابطہ کے باوجود انکی طرف سے کوئی موقف یا وضاحت پیش نہ کی گئی ہے۔ چیف میٹروپولیٹن پلاننگ اگر اپنا موقف دینا چاہیں تو ادارہ ہذا میں ان کے موقف کو من و عن شائع کیا جائیگا۔
ایل ڈی اے افسران کی نااہلی یا غفلت، لاہور ڈویژن ماسٹر پلان 2050ءکا نفاذ نہ ہوسکا



















