محکمہ اوقاف، نظم و ضبط کی بہتری، حکومتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیلئے اہم اقدامات

لاہور (قاضی ندیم اقبال) اوقاف پنجاب حکام کی جانب سے مذہبی امور کے شعبے میں نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور حکومتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اہم اقدامات اٹھا لئے گئے۔مساجد سے وابستہ عملے کی حاضری، جائے تعیناتی پر موجودگی اور پیشگی اجازت کے بغیر سٹیشن چھوڑنے پر مکمل پابندی عائد ہونے جیسے حکومتی قوانین پر سو فیصد عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے بلکہ عوام کو بہتر مذہبی خدمات کی فراہمی بھی یقینی بنانا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ اقدامات حال ہی میں دو موذن خادم (حافظ وارث موزن خادم جامع مسجد خراسیاں لاہور اور حافظ سجاد موذن خادم جامع مسجد صدق علی شاہ اچھرہ لاہور) کی بابت کی سامنے آنے والے معاملات کے بعد اٹھانے کی ضرورت پیش آئی۔ دونوں موذن خادم اپنی جائے تعیناتی پر کئی سالوں سے غیر حاضر رہتے ہوئے کسی دوسرے مقام پر محکمہ ہی سے وابستہ دو اہم شخصیات کیساتھ ڈیوٹی کر رہے تھے، مگر انکی اصل جائے تعیناتی پر سے غیر حاضری اور مسجد میں کئی سالوں سے اذان دینے جیسے اہم ترین فرائض ادا نہ کرنے کی بابت کوئی رپورٹ شعبہ مذہبی امور میں نہیں کی گئی۔ جبکہ دونوں موذن خادم فرائض منصبی ادا نہ کرنے کے باوجود ماہانہ تنخواہ وصول کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کے حلقہ انتخاب اندرون شہر سے وابستہ اہم سیاسی شخصیت کی جانب سے جامعہ مسجد خراسیاں کے معاملہ کی نشاندہی کے بعد دوران تحقیقات جامع مسجد صدق علی شاہ کا معاملہ بھی سامنے آ گیا۔ شعبہ مذہبی امور نے تحقیقات کیں تو کئی مزید اہم پہلو بھی سامنے آ گئے۔ ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور حافظ انیس الرحمن نے معاملات کی خود نگرانی کی اور اس بابت کی جانے والی تحقیقات کی رہورٹ سکرٹری اوقاف پنجاب کو پیش کر دی۔ بعد ازاں سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کی ہدایت پر ابتدائی طور پر دونوں ملازمین کی نئی جگہ پر تعیناتی کرنے کے بعد شعبہ مذہبی امور میں گذشتہ سالوں کے دوران کی جانے والی چشم پوشی اور سرکاری ملازمین کے قوانین پر پابندی نہ کئے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے مستقل بنیادوں پر اقدامات یقینی بنانے کی پالیسی وضع کر دی گئی۔ جس کے تحت واضح کیا گیا کہ شعبہ مذہبی امور یا کوئی بھی محکمہ کا ملازم کسی بھی آفیسر کے گھر ذاتی طور پر خدمات سر انجام دینے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔جنہوں نے ایسا کیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ذرائع کے مطابق شعبہ مذہبی امور کے تحت اس وقت پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 664 ملازمین عملہ مساجد میں شامل ہیں۔ جن میں گریڈ 19 کے دو صوبائی خطبائ، خطیب جامع مسجد داتا دربار، خطیب بادشاہی مسجد، گریڈ 18 کے 11 زونل خطبائ/رئیس التبلیغ، گریڈ 17 کے 22 ضلعی خطباء/صدر مدرس، گریڈ 16 کے 52 سینئر مدارس/سینئر خطباءآئمہ، گریڈ 14 کے 89 خطیب امام/مدرس/معلمہ، گریڈ 12 کے 176 نائب خطباءآئمہ/مدرس اور گریڈ 7 کے 311 موذن خادم شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق عملہ مساجد کی حاضری یقینی بنانے کی ذمہ داری ضلعی خطباء/زونل خطباءپر عائد ہوتی ہے وہ اس حوالے سے صوبائی خطباءکو رپورٹ کرنے کے پابند ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جاری کردہ ہدایات کے مطابق مساجد میں تعینات خطبائ، آئمہ اور دیگر عملہ اپنی ڈیوٹی کے اوقات میں باقاعدگی سے حاضری کو یقینی بنائیں گے۔کوئی بھی اہلکار اپنی جائے تعیناتی کو پیشگی تحریری اجازت کے بغیر نہیں چھوڑیگا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، اس پورے نظام کی نگرانی کی ذمہ داری از سر نو زونل اور ڈسٹرکٹ خطباءپر عائد کی گئی ہے۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مساجد کے عملے کی کارکردگی اور حاضری کا باقاعدہ جائزہ لیں اور اس حوالے سے تفصیلی رپورٹس مرتب کریں۔ یہ رپورٹس صوبائی خطباءکے ذریعے ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور کو ارسال کی جائیں گی، تاکہ اعلیٰ سطح پر نگرانی اور فیصلہ سازی کو مو¿ثر بنایا جا سکے۔حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ادارے کے اندر احتساب کا نظام مضبوط ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ اکثر شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ بعض مساجد میں عملہ اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتتا ہے یا بغیر اطلاع کے غیر حاضر رہتا ہے، جس سے نمازیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان شکایات کے پیش نظر یہ سخت اقدامات ناگزیر سمجھے گئے۔ حکومتی ذمہ داران کے مطابق مطابق اگر ان ہدایات پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کیا گیا تو اس سے مذہبی اداروں کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کیساتھ ساتھ مساجد میں نظم و ضبط قائم ہوگا اور عوام کو بروقت اور معیاری خدمات میسر آئیں گی۔ تاہم، اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ نگرانی کے نظام کو شفاف اور منصفانہ رکھا جائے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔دوسری جانب اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر شعبہ مذہبی امور بالخصوص عملہ مساجد میں شامل بعض اہم افراد نے مطالبہ کیا کہ جو 341 آسامیاں خالی ہیں، ان پر بھی توجہ دی جائے۔ عملہ مساجد عملے کے مسائل کے حل پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ گذشتہ سالوں میں من پسند افراد ہی زیادہ تر نوازے گئے اور قریب رکھے گئے۔ صرف سختی سے کام لینے کے بجائے ایک متوازن پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے، جس میں احتساب کے ساتھ ساتھ فلاح و بہبود کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ دریں اثناء” مشرق“ کے رابطہ پر ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور حافظ انیس الرحمن نے واضع کیا کہ سول سرونٹس رولز پر عملدرآمد کروانا ہمارا فرض ہے۔ شعبہ مذہبی امور میں کئی حوالوں سے مستقبل قریب میں اصلاحات بھی متعارف کروائی جائیں گی تاکہ مذہبی امور کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوانین کی پاسداری کو اولین ترجیح بناتے ہوئے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جو شفاف، مو¿ثر اور عوام دوست ہو۔ دوسری جانب زونل ناظمین، منیجرز و دیگر فیلڈ سٹاف کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ اقدام مذہبی اداروں میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے جس کے مثبت اثرات آنے والے وقت میں نمایاں طور پر سامنے آنے کی توقع ہے۔