اسلام آباد:(بیورورپورٹ)حکومت نے آئی ایم ایف کو وفاقی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کےلئے 10فیصد تک فنڈز مختص کرنے کی یقین دہانی کرا دی ۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن بجٹ سازی پر حتمی مشاورت کےلئے آئندہ ماہ پاکستان آئے گا، وفد کےساتھ اگلے مالی سال کےلئے مجوزہ اہداف پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی،آئی ایم ایف کو آن بورڈ لے کر اگلے مالی سال کےلئے مجموعی بجٹ کا حجم، جی ڈی پی کا ہدف، ٹیکس وصولیوں کا ہدف، بجٹ خسارے، پی ایس ڈی پی، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح اور ڈیبٹ سروسنگ سمیت دیگر اہداف فائنل کیے جائیں گے، اگلے مالی سال کے بجٹ میں غیر ضروری ٹیکس چھوٹ بھی مزید ختم کی جائےگی، تمام اہداف آئی ایم ایف کےساتھ طے کردہ بینچ مارکس کے مطابق رکھے جائیں گے،مالی مسائل کے باعث آئندہ مالی سال بھی ترقیاتی بجٹ محدود رکھنے کی تجویزہے۔
وزارت خزانہ نے پی ایس ڈی پی 3000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزمستردکردی،مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے300سے زائد نئے منصوبوں کیلئے اضافی فنڈز مانگ لیے،منصوبوں کی مجموعی لاگت 7000ارب روپے ہے،حکام وزارت منصوبہ بندی نے کہا جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اگلے مالی سال میں ترجیح قرار دی گئی ،رواں مالی سال پی ایس ڈی پی کیلئے 1000 ارب روپے رکھے گئے تھے،1100 ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت 13000 ارب روپے سے زائد ہے،جولائی سے اپریل تک ترقیاتی منصوبوں پر450 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے جبکہ پی ایس ڈی پی منصوبوں کا تھرو فارورڈ تقریبا 100 ارب روپے ہے،ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس میں پاکستان کےلئے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے، پاکستان آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی پوری کر چکا ہے۔
IMFکی تمام شرائط پوری، 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

















