غیرقانونی ترقیاں، محکمہ صحت ، جنرل ہسپتال انتظامیہ بورڈ آف مینجمنٹ کے بااثر ملازمین کے سامنے سجدہ ریز

لاہور (انویسٹی گیشن سیل /آصف مغل) جنرل ہسپتال اور محکمہ صحت دونوں نے بورڈ آف مینجمنٹ کے با اثر ملازمین کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، غیر قانونی ترقیوں سے بھی نواز دیا گیا۔ صرف یہی نہیں اور بھی بہت سی مراعات اور کرپشن کرنے کی اجازت بھی دیدی گئی جس کی بڑی وجہ بورڈ آف مینجمنٹ کا با اثر ملازم جنید طارق میو جو الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل یونین کا صدر ہے محکمہ صحت اور جنرل ہسپتال کے ذمہ داران افسران کی غیر قانونی خواہشات کو پورا کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر کوئی افسر ان کے خلاف کارروائی کا سوچنے بھی لگے تو یونین کی آرڈ میں بلیک میل کرتا یا پھر جن افسران کی خواہشات کو پورا کرتا وہ اس کو بچانے کیلئے متحرق نظر آتے۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ آف مینجمنٹ ان ملازمین کے آگے محکمہ صحت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور کارروائی گریزاں ہیں۔ با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ میر محمد نواز کی بورڈ آف مینجمنٹ کے ان با اثر ملازمین کو آشیر باد حاصل ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ محکمہ صحت کی طرف سے انکوائری کیلئے جاری کئے گئے لیٹر کے باوجود نہ انکوائری کی گئی، الٹا ایڈیشنل سیکرٹری میر محمد نواز نے انکوائری کرنے سے صاف انکار کر دیا اور سیخ پا ہوتے ہوئے کہا کہ ان کو ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس لے جائیں میں نہیں کر سکتا جبکہ کام ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا تھا کہ قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کی انکوائری کی جاتی اور 2018 سے لیکر آج تک جو غیر قانونی سکیل حاصل کر اضافی تنخواہیں لے کر محکمہ صحت کو بھاری نقصان کیا گیا ان کی ریکوری کر کے محکمہ کے خزانے میں جمع کرواتے اور ان ملازمین اور ان ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرتے جنہوں نے غیر قانونی ترقیوں سے بورڈ آف مینجمنٹ ملازمین کو نوازا تھا جبکہ ایسا نہیں ہوا موصوف نے نہ خود انکوائری کی اور نہ ہی کسی کو کرنے دی یہی وجہ ہے محکمہ صحت کے ذمہ داران افسران کے علم میں ہونے کے باوجود اور ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے رپورٹ لینے کے باوجود کاروائی نہیں کی گئی جو واضح ثبوت ہے کہ ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ میر محمد نواز کی آشیر باد ان ملازمین کو حاصل ہے جس کی بڑی وجہ بورڈ آف مینجمنٹ کا با اثر ملازم جنید طارق میو ہے جو ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے کی افسران کو اپنی جیب میں رکھتا ہے اور ان غیر قانونی خواہشات کو پورا کرتا ہے جو آفیسر ان کی نہیں سنتا یونین کی آرڈ میں ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے مگر حیران کن بات یہ ہے سیکرٹری صحت عظمت محمود اور وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی ناک تلے اتنا کچھ ہو رہا ہے ذمہ داران افسران کی مسلسل خاموشی کی وجہ سے بورڈ آف مینجمنٹ کے یہ با اثر ملازمین جنرل ہسپتال میں اپنی من مانیاں کر رہے ہیں جن کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے اس سنگین معاملے پر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے نوٹس کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔

لاہور(ہیلتھ رپورٹر سے) اس حوالے سے جنرل ہسپتال کے ترجمان زاہد سے رابطہ ہوا اور ان سے کہا گیا کہ ایم ایس فریاد حسین سے موقف لے دیں تو انہوں نے مشرق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سیکرٹری صاحب کو جواب دیدوں گا جب وہ مجھ سے کچھ پوچھیں گے۔

لاہور(انویسٹی گیشن سیل) ایم ایس لاہور جنرل ہسپتال فریاد حسین ڈاکٹرز، نرسز اور ایڈمن سٹاف کے آگے بے بس، اپنے ہی احکامات پر عمل کرانے میں ناکام۔ ایم ایس نے مورخہ 21 جنوری 2026 کو لیٹر نمبر LGH/9981 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں لکھا کہ سکیل 1 سے سکیل 17 کے تمام ملازمین، ایڈمن سٹاف، فنانس ڈیپارٹمنٹ، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز، درجہ چہارم ملازمین،ہیڈ نرسز، چارج نرسز اپنی حاضری بائیومیٹرک لگائیں گے۔لیکن اس نوٹیفکیشن میں ڈاکٹرز کا ذکر نہیں کیا میڈیکل آفیسر وومن میڈیکل آفیسر اور ڈی ایم ایس صاحبان بھی سکیل 17 کے ملازم ہیں لیکن ایم ایس نے اپنے کیڈر کے تمام ڈاکٹرز کو بائیو میٹرک حاضری سے مستثنیٰ قرار دیدیا جس کے بعد نرسز ، ہیڈ نرسز، ایڈمن سٹاف اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے سکیل 17 کے ملازمین نے بھی بائیو میٹرک حاضری لگانے سے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے سکیل ایک سے سکیل 16 کے تمام ملازمین پہلے سے ہی اپنی حاضری بائیو میٹرک لگاتے ہیں۔ اب سکیل 17 والوں کی باری تھی لیکن ایک ماہ گزر جانے کے باوجود ایم ایس اپنے ہی احکامات پر عمل کرانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جس وجہ سے سکیل 17 کہ تمام ملازمین کی آن لائن حاضری چیک کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ کیونکہ سکیل 17 کے تمام ملازمین جن میں ڈاکٹرز، ہیڈ نرسز، ایڈمن سٹاف، فائنانس سٹاف ، آفس سپریٹنڈنٹ آتے ہیں یہ سب اپنی ڈیوٹی پر ٹائم سے نہیں آتے اور ان کی حاضری چیک کرنے کا واحد حل بائیو میٹرک ہے لیکن تمام لوگ آن لائن حاضری قبول کرنے سے انکاری ہے۔ سکیل ایک سے سکیل 16 کے تمام ملازمین کا کہنا ہے کہ بائیومیٹرک سکیل 17 والوں کی بھی ہونی چاہیے یا ہمیں بھی بائیو میٹرک حاضری سے مستثنی قرار دیا جائے۔ کیونکہ ہم بھی گورنمنٹ آف پنجاب کے اتنے ہی ملازم ہیں جتنے اسکیل 17 کے ہے اور میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو ہم سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھنا چاہیے۔