واشنگٹن (مشرق نیوز) ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ پروسیسڈ غذاوں سے بھرپور ڈائٹ توجہ یکسو رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ موناش یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ساو پالو اور ڈیکن یونیورسٹی کی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ مقدار میں پراسیسڈ (فیکٹری میں تیار شدہ) کھانے کھانا دماغ کی توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔
الزائمرز ایسوسی ایشن کے جرنل الزائمرز اینڈ ڈائمینشیا: ڈائیگنوسس میں شائع ہوئی اس تحقیق میں 2100 سے زائد آسٹریلوی افراد (جو ڈیمنشیا سے پاک تھے اور درمیانی یا زیادہ عمر کے تھے) کی خوراک اور ذہنی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ روزانہ کی بنیاد پر الٹرا پراسیسڈ فوڈز (یو پی ایف) کی معمولی سی بھی زیادہ مقدار انسان کی توجہ میں واضح کمی کا باعث بنتی ہے، چاہے وہ بظاہر صحتمند غذا ہی کیوں نہ کھا رہا ہو۔
مرکزی محقق باربرا کارڈوسو (جو موناش یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف نیوٹریشن، ڈائٹکس اینڈ فوڈ اور وکٹورین ہارٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیں) نے کہا کہ یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ صنعتی طریقے سے تیار کی جانے والی خوراک اور ذہنی تنزلی کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے۔
کونسی غذاوں کا استعمال ہماری توجہ کو متاثر کر سکتا ہے؟


















