وزارت مذہبی امور نے چیئرمین متروکہ وقف املاک سے زیرسماعت کیسوں کی تفصیلات طلب کرلیں

لاہور (قاضی ندیم اقبال) وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے کے بڑھتے ہوئے مقدمات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین بورڈ سے ملک بھر میں زیر سماعت مقدمات کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔ وزارت کی جانب سے جاری مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام قانونی مقدمات، ان کی نوعیت، متعلقہ عدالتوں، فریقین اور مقدمات کی موجودہ پیشرفت سے متعلق جامع رپورٹ فوری طور پر وزارت کو ارسال کی جائے تاکہ اس کی روشنی میں مستقبل کیلئے نئی اور مو¿ثر قانونی پالیسی مرتب کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی امور نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ متروکہ وقف املاک، خصوصاً غیر مسلم وقف جائیدادوں سے متعلق مختلف تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث بورڈ کو متعدد عدالتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تو دوسری جانب غیر مسلم وقف املاک سے ہونے والی آمدن پر بھی نمایاں فرق پڑا ہے۔ جبکہ رہی سہی کسر فیلڈ سٹاف کی فرائض میں عدم دلچسپی نے پوری کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت نے واضح کیا ہے کہ متروکہ وقف املاک قومی امانت ہیں اور ان کے تحفظ، شفاف انتظام اور قانونی دفاع کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ذرائع نے دعوی کیا کہ نئی پالیسی کی تیاری کے بعد اس پر عمل درآمد کی بنیادی ذمہ داری ڈائریکٹوریٹ آف لیگل کے سپرد ہو گی، جو تمام زیر التوا اور مستقبل میں دائر ہونے والے مقدمات کی مو¿ثر پیروی کو یقینی بنائے گا۔ وزارت نے قانونی ونگ کو ہدایت کی ہے کہ ایسے مقدمات کی بروقت نگرانی، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور عدالتوں میں مو¿ثر نمائندگی کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت کو موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق کئی مقدمات زمینوں پر قبضے، لیز، کرایہ داری، ملکیتی تنازعات اور غیر قانونی استعمال سے متعلق ہیں۔ بعض معاملات میں مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے درمیان رابطے کے فقدان کو بھی قانونی پیچیدگیوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں وزارت نے تمام علاقائی دفاتر سے بھی تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں جاری مراسلے میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ غیر مسلم وقف املاک کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزارت نے ہدایت کی کہ مندروں، گوردواروں، شمشان گھاٹوں اور دیگر مذہبی و فلاحی املاک کی اصل حیثیت برقرار رکھنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کرنا اشد ضروری ہیں۔ مزید برآں ایسی جائیدادوں کی نشاندہی بھی کی جائے جو غیر قانونی قبضے یا عدالتی تنازعات کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی امور نے اس حوالے سے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ پالیسی میں ممکنہ طور پر مقدمات کی مرکزی سطح پر نگرانی، قانونی ماہرین کی خصوصی ٹیموں کی تشکیل اور صوبائی حکام کیساتھ مشترکہ رابطہ نظام شامل ہو گا تاکہ عدالتی معاملات کو بروقت نمٹایا جا سکے۔ دریں اثناءقانونی ماہرین کے مطابق متروکہ وقف املاک سے متعلق مقدمات میں اضافے کی بڑی وجہ جائیدادوں کا بڑھتا ہوا مالی و تجارتی اہمیت اختیار کرنا ہے جس کے باعث مختلف عناصر ان غیر مسلم وقف املاک پر دعوے دائر کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جامع پالیسی اور مضبوط قانونی فریم ورک نافذ کیا گیا تو نہ صرف قیمتی املاک کا تحفظ ممکن ہو سکے گا بلکہ عدالتی تنازعات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔ ذرائع کے مطابق ادھر وزارت مذہبی امور کے حکام نے عندیہ دیا ہے کہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں تمام قانونی اور انتظامی پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جائیگا۔ اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی، ذمہ داریوں کے تعین اور احتساب کے نظام پر بھی غور کیا جائے گا تاکہ متروکہ وقف املاک کے تحفظ کو مو¿ثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔