لاہور ( میاں ساجد/ عکاسی: واحد شہزاد )صوبائی دارالحکومت میں 22 لاکھ 30 ہزار 597 بچوں کو قطرے پلانے کا مقررہ ہدف کو پایہ تکمیل تک پہچانے کیلئے محکمہ صحت کے تمام افسران فیلڈ سٹاف پولیو ورکرز سی ایم او ، ایریا انچارج ، کمپین انچارج ، ڈی ڈی ایچ اوز کی سربراہی میں پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کر یں گے۔ پولیو مہم ایک قومی مہم جس کو کامیاب بنانے اور اپنے بچوں کی صحت کو محفوظ بنانے کیلئے مائیں اپنے فرض کو نبھانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ بچوں کی ماﺅں کے عملی تعاون سے مقررہ ہدف جس کو 14 فروری تک الحمداللہ مکمل کر لیا جائے گا۔ پولیو ٹیمیں مستعد اور تیار صبح سے لے کر شام تک اپنے فرض کو نبھانے میں لمحہ کی تاخیر کی مرتکب نہیں ہوں گی۔ پولیومہم ہمارے لئے قومی فریضہ جس کے ادائیگی کیلئے کوئی بھی سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔ ان خیالات کا اظہار CEO ہیلتھ لاہور ڈاکٹر آصف رباب خان نیازی کی روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو۔ ان کا کہناتھا کہ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کر دیا ہے پولیو ٹیمیں صبح سے دوپہر اور رات گے تک متحر ک رہیں گئیں۔ تاکہ کسی بھی محلے میں علاقے میں گلیوں کوچوں اور گھروں میں کوئی بھی بچہ پولیو مہم میں قطروں سے محروم نہ رہے۔ پولیو ٹیمیں ڈور ٹو ڈور اس مہم کی کامیابی کیلئے کمربستہ ہوں گی جن کے ساتھ آپ کا تعاون کسی بچہ کو اس وائرس سے بچانا ہے بلکہ اس کی صحت کو محفوظ بنانا ہے۔ اس مہم کی کامیابی کیلئے تمام وسائل بروئے کا ر لائے گے۔ ٹیمیں اپنے فرض کی آبیاری کیلئے آپ کی دہلیز پر آئیں تو مائیں اپنا فرض سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔ آپ کی چھوٹی سی کوتاہی سے آپ کا بچہ پولیو وائرس کا شکار ہو سکتا ہے۔ چھوٹے بچے پولیو ورائرس کا جلدی شکار ہوتے ہیں اسلئے مائیں ان کی صحت کو محفوظ بنانے کیلئے پولیو ویکسین کے قطرے فوری پلوائیں۔ بچہ جتنا چھوٹا، پولیو وائرس کیلئے اتنا ہی آسان شکارپولیو وائرس بچے کے جسم پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کو عمر بھر کے لئے معذور بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کی جان بھی لے سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اس مرض کا کوئی علاج موجود نہیں ہے تاہم آپ کے بچے کو اس مہلک ترین وائرس سے بچانے کے لئے پولیو ویکسین کے قطرے موجود ہیں۔پولیو کے قطرے ایک حفاظتی شیلڈ کی طرح ہوتے ہیں، اگر آپ اپنے بچے اور پولیو وائرس کے درمیان مضبوط دیوار کھڑی کرنے کے خواہش مند ہیں تو اس مہم میں اپنی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیو رضا کار ہر مہم میں آپ کے گھر آتے ہیں اور آپ کے بچوں کو قطر پلاتے ہیں، آپ کا بچہ جتنی زیادہ خوراکیں حاصل کرے گا، بچے اور اس بیماری کے درمیان حائل دیوار اتنی ہی زیادہ محفوظ ہوگی۔ CEO ہیلتھ لاہور ڈاکٹر آصف رباب خان نیازی نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ والدین اس بات کی مکمل تسلی کرلیں کہ نومولود بچوں کو پلائے جانے والے پولیو کے قطروں کے کسی قسم کی مضر اثرات اب تک سامنے نہیںآئے ہیں۔ جن گھروں میں نومولود بچے موجود ہیں مائیں پہلی فہرست میں انہیں پولیو کے قطرے پلائیں۔ اور ایسے شیر خو ار بچوں کو قطرے پلانے کیلئے لاہور بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں بھی کاﺅنٹرز قائم کئے گئے ہیں تاکہ لاہور کی سطح پر کوئی بھی بچہ اس جاری مہم میں پولیو کے قطرے پینے سے مستفید ہو سکیں۔ یہ قطرے ان بچوں کی صحت کیلئے مفید اور ر دیگر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو قطرے لازم ملزوم پلائیں انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو پولیو سے بچانے کیلئے OPV متعدد بار پلوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کو پولیو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے کتنی خوراکیں درکار ہیں، بچے کی اپنی صحت، جسم میں کسی قسم کی غذائی کمی کے ہونے یا نہ ہونے کے علاوہ اس بات پربھی منحصر ہوتا ہے کہ مزید کتنے دیگر وائرس ایسے ہیں جن کے خطرے سے بچہ دوچار ہے۔پانچ سال کی عمر تک بچے کو پولیو لاحق ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے، اسی خطرے کے پیش نظر ہر انسداد پولیو مہم کے دوران تمام بچوں کو قطرے ضرور پلانے چاہئیں، اگر کسی ماں سے یہ غفلت ہوئی ہے کہ تو ذہن نشین کر لے۔ کہ اس سے کوتاہی ہوئی ہے کہ اس نے اپنے بچہ کو انسداد پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پلائے گئے وہ اس مہلک وائرس کی افزائش اور پھیلاوکی وجہ بن سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر آصف رباب خان نیازی نے جواب میں کہا کہ پولیوکے مکمل خاتمے کیلئے جاری انسداد پولیومہم کو الحمداللہ بھر پور ذمہ داری نظم و ضبط اور قومی جذبے کے ساتھ نہ صرف مکمل کیا جائے گا۔ بلکہ محکمہ صحت کے تمام ورکرزٹیم لیڈرزاور سپروائرز ڈور ٹو ڈور جا کر اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اپنے فرض کو نبھانے کیلئے ڈیوٹی پر معمور ہوں گے۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر آصف رباب خان نیازی نے مزید کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہے جس کے خاتمے کیلئے والدین اساتذہ علماءکرام اور سوسائٹی کے افراد اہم ارکان میں شامل ہوتے ہیں وہ بھی اپنا فرض کو نبھانے میں ہمارا ساتھ دے کر اس مہم میں ضرور شراکت داری کریں۔ حکومت پنجاب اور محکمہ صحت پولیو فری پاکستان کے ویژن پر عمل پیرا ہیں۔ والدین سے گزارش ہے کہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔جبکہ جو بچے اس مہم میں خطرے نہ پیں سکیں وہ یہاں بھی ہیں کسی بھی سرکاری ہسپتال سے قطرے پیئں سکتے ہیں۔
پولیو مہم قومی فریضہ، والدین بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کیلئے ساتھ دیں :ڈاکٹر آصف رباب


















